بی اور سی کیٹیگری کی ٹیموں سے جیت کر ہمارے ریٹنگ پوائنٹس بڑھے، مصباح الحق

24

لاہور:قومی ٹیم کے دو سابق کپتانوں مصباح الحق اور وسیم اکرم نے پاکستان ٹیم کے عالمی درجہ بندی میں سرفہرست ہونے پر سوال اٹھادیے۔ میں نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق کپتان وسیم اکرم نے مصباح الحق کو دیکھتے ہوئے سوال کیا کہ ریٹنگ کی آج کل کیا اہمیت ہے؟ پاکستان کو دنیا کی نمبر ون ٹیم کہا جارہا ہے جب کہ انگلینڈ 5 اور ا?سٹریلیا 6 پر ہے لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اگر سیزن ستمبر میں شروع ہوا اور ہم ڈھائی ہفتے بعد نمبر ون ہوگئے تو کیا ہم نمبر ون ہونے کا جشن منالیں؟ 6 مہینے اس عالمی رینکنگ میں نمبر ون رہیں پھر جشن منائیں۔وسیم اکرم کے سوال پر مصباح الحق نے واضح کیا کہ نیوزی لینڈ اور ا آسٹریلیا کی ٹیمیں پاکستان آئیں، اگرچہ یہ ٹاپ کی ٹیمز ہیں لیکن ان کی بی سی کیٹیگریز کی ٹیمز آئیں ہم جیت گئے اور ہمارے ریٹنگ پوائنٹس بڑھ گئے، ہمیں حقائق کو ذہن میں رکھنا چاہیے لیکن ہم نمبر ون ہو کر خوش ہورہے ہیں۔سابق کپتان کا کہنا تھا کہ حقائق کو دیکھیں تو آسٹریلیا کی سی ٹیم پاکستان کھیلنے آئی تھی وہ بھی پاکستان سے ایک میچ جیت گئی، دوسرے میچ میں اس ٹیم نے 350 رنز اسکور کردیے تاہم پاکستان نے خوش قسمتی سے اچھا کھیل کر اس میچ کا ہدف پورا کیا، آسٹریلیا کی یہی ٹیم ایک میچ میں 319 کرگئی، اس کے بعد نیوزی لینڈ کی ڈی کیٹیگری کی ٹیم پاکستان کھیلنے کیلئے ا?ئی کیوں کہ ان کے سارے کھلاڑی آئی پی ایل کھیلنے گئے تھے اس کے باوجود بھی ان کے ساتھ بھی ہمارے مقابلہ مشکل رہا، نیوزی لینڈ کی ٹیم کے جو کھلاڑی ورلڈکپ میں باہر بیٹھے ہوئے ہیں وہ بھی ان میچز میں ہمارے پاس موجود نہیں تھے۔مصباح الحق کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے اب ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے حقیقت پسندانہ سوچ رکھنی ہے کہ ہمارا آغاز اور مقابلہ کیسا ہے، ہماری کون سی ٹیم کھیل رہی ہے اور حریف ٹیم کی کون سی ٹیم موجود ہے کیوں کہ یہ سب ذہن میں ہو تو پھر رینکنگ معنی نہیں رکھتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں