آئی ایم ایف کا پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ پر اظہارِ تشویش

IMF-policy 15

اسلام آباد: آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ پر پاکستان سے رپورٹ طلب کر لی۔آئی ایم ایف نے ماہانہ 1 لاکھ 20 ہزار ٹن پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ پر اظہارِ تشویش کیا ہے، ذرائع ایف بی آر کے مطابق آئی ایم ایف نے وزارتِ خزانہ اور ایف بی آر سے پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ پر رپورٹ مانگ لی۔پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے اب تک اٹھائے اقدامات سے متعلق رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اسمگلنگ سے کسٹم اور لیوی کی مد میں 10 ارب سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ 143 ملین لیٹر پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ کو روکا جائے،پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ بڑھنے سے درآمدی بل میں کمی سے ریونیو شارٹ فال ہو گا۔آئی ایم ایف نے ایف بی آر اور وزارتِ خزانہ کو ریونیو بڑانے کیلئے اقدامات کی بھی ہدایت کی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بجلی بلوں میں ریلیف دینے کیلئے آئی ایم ایف نے وزارتِ خزانہ سے سخت شرائط کا تحریری معاہدہ مانگا تھا۔ آئی ایم ایف نے وزارتِ خزانہ اور وزارتِ توانائی سے 5 شرائط پر مبنی معاہدے کا مطالبہ کیا،آئی ایم ایف نے کیپٹو پاور پروڈیوسرز کو دی گئی مراعات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
وزارتِ خزانہ کے دستاویزات کے مطابق دیگر صارفین کی طرح کیپٹو پاور پروڈیوسرز کیلئے گیس نرخوں میں فوری اضافہ کیا جائے،کیپٹو پاور پروڈیوسرز کیلئے گیس نرخوں میں اضافہ جولائی 2023ء￿ سے نافذ کیا جائے۔ آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ کیپٹو پاور پروڈیوسرز کیلئے رعایت ختم اور نرخوں میں اضافے کا پلان ختم کیا جائے۔ آئی ایم ایف نے وزارتِ خزانہ کو ہدایت کی کہ صارفین کو ریلیف دینے کیلئے پاور سیکٹر کا نظام درست کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں