کیپٹل ہل حملہ کیس، ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کے گرد گھیرا مزید تنگ

14

واشنگٹن :امریکی حکومت نے کیپٹل ہل پر حملے کے ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کے گرد گھیرا تنگ کر لیا، جرم ثابت ہونے پر دیگر افراد سمیت سابق امریکی صدر کو ممکنہ طور پر 5سے 20سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔6جنوری 2021 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے کیپٹل ہل بلڈنگ پر حملہ کیا تھا، حملے کے بعد ٹرمپ اور ان کے حامیوں کے مواخذے اور تفتیش کا عمل شروع کر دیا گیا، ٹرمپ کے خلاف عوام کو اکسانے، ان کے ساتھیوں پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، امن و امان کی فضا کو خراب کرنے پر کارروائی اور تفتیش کا عمل شروع کیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 6جنوری 2021 کو کیپٹل ہل پر حملہ آور ہجوم کی تعداد 2ہزار سے 2,500کے درمیان تھی جس میں پراڈ بوائز اور اوتھ کیپرز بھی شامل تھے، اس وقت کے نائب صدر مائیک پینس کو فوری طور پر وہاں سے جانا پڑا تھا، امریکی قانون ساز بھی فسادیوں کی دراندازی پر جان کے خطرے کے پیش نظر عمارت میں چھپ گئے۔
امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ کیپٹل ہل واقعے کے بعد امریکی تاریخ کی سب سے بڑی پولیس تفتیش شروع کر دی ہے، دوران تفتیش 2ہزار الیکٹرانک آلات ضبط اور 20ہزار گھنٹے سے زائد کی ویڈیو فوٹیج کا جائزہ لیا گیا جن کی بنیاد پر 2سال بعد 964افراد پر فرد جرم عائد کی گئی۔جرائم کے الزام میں 465افراد نے درخواستیں جمع کروائیں، اوتھ کیپرز کے بانی اور رہنما اسٹیورٹ روڈس کو ریاست کے خلاف بغاوت کی سازش پر 20سال قید کی سزا سنائی گئی، سابق آرمی پیرا ٹروپر پر کانگریس کو صدارتی انتخابات کو روکنے کیلئے طاقت کا استعمال کرنے کی منظم سازش کا الزام تھا۔
سابق پولیس افسر کو کیپٹل ہل میں پولیس پر حملہ کرنے اور پرتشدد کارروائیاں کرنے کے الزامات میں 10سال قید کی سزا سنائی گئی، ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے گائے ریفٹ کو امریکی عدالت نے 5سنگین الزامات میں 87ماہ قید کی سزا سنائی،مکمل تفتیش کے بعد کیپٹل ہل دہشتگردی کی مد میں ٹرمپ پر متعدد الزامات لگے، ان الزامات میں ریاست سے غداری، دھوکہ دہی اور گواہان اور امریکی اعلی عہدیداران کے خلاف سازش شامل ہیں، فلٹن کائونٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی فانی ولیس نے جارجیا کے 2020 کے انتخابات کو الٹانے کی کوششوں میں ٹرمپ پر الزامات لگائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں