ہٹیاں بالا: شادی میں فائرنگ سے 14سالہ بچہ جاں‌بحق

hatian bala firing incident 103

ہٹیاں بالا(مبارک حسین اعوان سے)ہٹیاں بالا کے نواحی علاقے لمنیاں کے خواجہ محلہ میں پٹواری کے بیٹے کی شادی میں ممنوعہ اسلحہ سے ہوائی فائرنگ، شادی میں شریک تقریبا چودہ سالہ بچہ دو گولیاں لگنے سے جاں بحق ،سٹی تھانہ ہٹیاں بالا نے دلہا اس کے والد سمیت تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کردیا ایک گرفتار ،جاں بحق ہونے والے بچے کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہٹیاں بالا میں پوسٹمارٹم کے بعد آبائی علاقہ سینا دامن میں نماز جنازہ ادا،آہوں اور سسکیوں کے سائے میں منوں مٹی تلے سپرد خاک کردیا گیا علاقہ کی فضا سوگوار ہو گئی ۔تفصیلات کے مطابق ہٹیاں بالا کے نواحی علاقے لمنیاں کے خواجہ محلہ میں پٹواری خواجہ ظہور کے بیٹے خواجہ انس ظہور کی شادی کے موقعہ پر آتشیں اسلحہ سے شدید ہوائی فائرنگ کی گئی جس کے باعث اریان ولد خالد میر ساکنہ سینا دامن کو دو گولیاں لگیں اور وہ نیچے جا گرا،اریان کو پہلے لمنیاں میں طبی امداد دی گئی جہاں سے اسے ہٹیاں ہسپتال ریفر کیا گیا ہٹیاں سے فوری طور پر سی ایم ایچ مظفرآبادپہنچایا گیا جہاں پر اس کا آپریشن ناکام ہو گیا اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اتوار اور پیر کی درمیانی رات اپنے خالق حقیقی سے جا ملا،جس کے بعد اس کی نعش کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہٹیاں بالا منتقل کیا گیا جہاں پر ڈاکٹرز نے پیر کے روز اس کا پوسٹمارٹم کیا پیر کو دوپہر گئے جاں بحق ہونے والے بچے کی نماز جنازہ اس کے آبائی علاقہ میں ادا کرنے کے بعد سپرد خاک کردیا گیا نماز جنازہ میں ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی معصوم اریان تو اس دنیا سے چلا گیا لیکن پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سوالیہ نشان چھوڑ گیا؟ اس سے پہلے بھی جہلم ویلی میں شادیوں میں ہوائی فائرنگ کا سلسلہ دیدہ دلیری سے سرعام ہوتا رہا جس دوران متعدد لوگ زخمی بھی ہوئے لیکن پولیس نے شادیوں میں فائرنگ کرنے والوں کے خلاف کبھی سخت کارروائی نہیں کی بعض اوقات پولیس فائرنگ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود خاموش تماشائی بنتی رہی، شادی ایک خوشی کا موقعہ ہوتا ہے اس میں بے جا رسومات بعض اوقات خوشی کو غمی میں تبدیل کر دیتی ہیں شادی والے گھر کے بڑوں اور گاؤں کے تمام معززین کو بھی چاہیے کہ وہ غیر شرعی رسومات کو روکیں اور خاص کر شادی میں ہوائی فائرنگ پر سخت پابندی ہونی چاہیے تا کہ کسی کی جان ایسے نہ جائے شادیوں میں ہوائی فائرنگ کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت ڈپٹی کمشنر جہلم ویلی، ایس پی جہلم ویلی نے اس پر کبھی پابندی عائد کرنے کا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا نہ ہی کسی کو کوئی سزا جزا ہوئی ہے شادیوں میں ہوائی فائرنگ کو معززین علاقہ مل بیٹھ کر ہی بند کروا سکتے ہیں ہر گاؤں میں معززین علاقہ اگر شادی میں ہوائی فائرنگ پر سختی سے پابندی عائد کر دیں، خلاف ورزی پر سخت سے سخت سزا کا تعین کریں تو یہ سلسلہ رک سکتا ہے آخری اطلاعات کے موصول ہونے تک سٹی تھانہ ہٹیاں بالا نے دلہا انس ظہور،اس کے والد خواجہ ظہور ولد عبدالغفار ساکنان لمنیاں اور راجہ صدام ولد اعظم ساکنہ سراں کے خلاف زیر دفعات/337 324ا،337/H2اور 37اے پی سی کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے راجہ صدام ولد اعظم کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ پیر کو دو پہر گئے تک دلہا اور اس کے والد کو پولیس گرفتار نہیں کر پائی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں