غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کیوں؟لوڈشیڈنگ اور عوام کا غصہ

Loadshedding 32

ہٹیاں بالا(مبارک حسین)محکمہ برقیات سفید ہاتھی بن گیا لائنوں کی مرمتی اور شاخ تراشیوں کے نام پر دن رات عوام پر ظالمانا لوڈ شڈنگ مسلط دورانیہ اٹھارہ گھنٹوں پر مشتمل جبکہ اہلکاران برقیات نہ تو لائین مرمت کرتے ہیں نہ ہی شاخ تراشی شدید گرمی کے دوران ظالمانا لوڈشڈنگ نے عوام کا جینا محال کرکھا ہے عوام نے چوبیس گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دے دی اصلاح احوال نہ ہوئی تو محکمہ برقیات اپریشن ڈویژن ہٹیاں بالا کا گھیراو کیا جاے گا ۔تفصیلات کے مطابق ہٹیاں بالا میں اٹھارہ گھنٹے کی بدترین لوڈ شڈنگ نے عوام کا برا حال کر دیا بچے بڑے سبھی گرمی سے بلبلا اٹھے تاجر حضرات بھی سارا دن بجلی کا رونا روتے ہیں لیکن کیا مجال کہ محکمہ برقیات کے کان پر جوں تک رینگی ہو اٹھارہ گھنٹوں کی لوڈشڈنگ سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا بازار ہٹیاں بالا میں ایک شناختی کارڈ کی کاپی کے لیے لوگ تین تین گھنٹے بجلی کا انتظار کرتے ہیں جبکہ ٹیلر حضرات،الیکڑک مکینک موبائل شاپ ویلڈنگ والوں کا کاروبار بھی بجلی نہ ہونے کی وجہ سے مکمل مفلوج ہو کر رہ گیا ہے رات کو دو گھنٹے بجلی بھی مکمل نہیں رہتی جس سے بچے گرمی سے نڈھال ہو جاتے ہیں جبکہ مریض لوگ بھی شدید گرمی سے متاثر ہو رہے ہیں ہٹیاں بالا کی عوام کا کہنا ہے کہ ہم ہر رات کسی جہنم سے کم نہیں گزارتے محکمہ برقیات بھاری بل تو وصول کر رہا ہے لیکن بجلی فراہم نہیں کرہا لائنوں کی مرمت اور شاخ تراشی کے بہانے سن سن کا کان پک گے ہیں رات کو کون سی لائیں مرمت ہوتی ہیں اور شاخ تراشی ہوتی ہے اگر چوبیس گھنٹوں کے اندر لوڈشڈنگ میں کمی نہ کی گی اور شیڈول کے مطابق بجلی نہ دی گی تو محکمہ برقیات سمیت گرڈاسٹیشن کا گھیراو کریں گے شاہراہ سرینگر کو مکمل بند کریں گے اس دوران اگر کوئی بھی ناخوشگوار واقع رونما ہوا تو اس کی ذمہ داری برقیات پر ہو گی وزیر اعظم آزاد کشمیر،چیف سیکرٹری آزاد کشمیر ،کمشنر مظفرآباد فوری طور پر محکمہ برقیات کو پابند بنائیں کے لوڈ شڈنگ میں کمی کی جاے اور شیڈول پبلک کیا جاے اسی شیڈول کے مطابق بجلی جانے چاہیے نہیں تو عوام کا جم غفیر روڈوں پر ہو گا اس بار خواتین بچوں سمیت شاہراہ سرینگر بند کریں گے ہمارےبچے نہ رات کو سو سکتے ہیں نہ ہی سکول کا ہوم ورک کر سکتے ہیں ہم جائیں تو جائیں کہا وزیر اعظم آزاد کشمیر فوری نوٹس لیں اور بجا لوڈشڈنگ کا خاتمہ کرائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں