ڈار اور ڈالر کی محبت ۔۔

chata dervaish sami ibrahim 78

ہر روز یہ خبر آتی ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اتنے روپے کمی ہو گئی ، آج سے چار پانچ روز پہلے جو ڈالر لگ بھگ 340روپے کا تھا اب 304روپے میں دستیاب ہے لیکن خریدار کوئی نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ وہ کریک ڈائون ہے جس کے تحت ہماری ایجنسیوں کے لوگ کرنسی مارکیٹ میں کاروبار پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہر آنے والے کلائنٹ سے پوچھا جاتا ہے کہ اسے کتنے ڈالر کس مقصد کےلئے چاہیے اور پھر ایک خاص نمبر سے زیادہ ڈالر لینے کی اجازت نہیں۔ ڈالر کی قیمت میں کمی اور روپے کی قیمت میں بہتری ایک خوشگوار عمل ہے اس کے اثرات ہماری اکنامی پر بھی ہونگے کیونکہ ڈالر میں امپورٹ کی جانیوالی چیزوں کی قیمت میں کمی ہو گی۔ میڈیا میں اس کا کریڈٹ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو دیا جارہا ہے کہ یہ آپریشن ان کی ہدایت پر کیا گیا ایک بڑا سوال یہاں پر یہ ہے کہ جس وقت شہباز شریف کی حکومت تھی اسحاق ڈار وزیرخزانہ تھے تو تب ڈالر کی قیمت کو قابو میں کیوں نہیں لایاگیا؟ جب بھی ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت پر اظہار تشویش کیا جاتا اور یہ کہا جاتا کہ حکومت روپے کی قیمت کو کنٹرول کرنے کےلئے مداخلت کرے تو جواب ملتا تھا یہ آئی ایم ایف کی شرط ہے بیرونی کرنسی کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے اور اوپن مارکیٹ اس کا تعین کرے۔ اگر یہ شرط آئی ایم ایف کی تھی تو پھر اب کیوں ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کی اجازت ہے ، کیا اب آئی ایم ایف خاموش ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ڈالر کے غیر قانونی کاروبار کی روک تھام کےلئے آئی ایم ایف نے کوئی پابندی نہیں لگائی تھی اورارباب اختیار جس کی قیادت شہباز شریف اور اسحاق ڈار کر رہے تھے جس میں پیپلز پارٹی کے دیہاڑی دار بھی شامل تھے قوم کو لوٹنے میں مصروف رہے۔ ڈالر کی اس قیمت کے اتار چڑھائو میں اربوں روپے کمائے گئے جو شاید آنے والے انتخابات میں استعمال کئے جائیں گے اور ایسی قیادت کو روپے کی طاقت سے ہم پر مسلط کیا جائے گا جو مزید دیہاڑیاں لگائے گی۔ ایک اور سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا جن لوگوں نے کرنسی مارکیٹ میں مال بنایا ان کی جیبوں سے وہ رقمیں واپس نکالی جائیں گی سنا ہے ایک ہزار اہم شخصیات کا نام سٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے تاکہ وہ ملک سے باہر نہ جاسکیں ان میں سینکڑوں کی تعداد میں پیپلز پارٹی کی قیادت سے جڑے ہوئے لوگوں کے نام ہیں ، یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کا قریبی سٹاف بھی اب پاکستان سے باہر نہیں جاسکتا۔ ان اطلاعات میں سندھ میں ایک خوف و ہراس کی فضا قائم کی ہے۔ اب کیا واقعی ان سے کچھ وصولیاں کی جائیں گی یا مستقبل میں نیک چال چلن کے وعدے پر کمائی گئی رقم کو بخشش قرار دے کر عزت و آبرو کے ساتھ اپنا کھیل جاری رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔اشارے مل رہے ہیں کہ بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری صاحب صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اور اس سے بچ نکلنے کےلئے مختلف حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں۔ لگ ایسا رہا ہے کہ سافٹ وئیر اگر مکمل نہیں تو تھوڑے بہت اپ ڈیٹ ضرور ہو گئے ہیں کیونکہ بلاول نے کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے یہ کہا کہ الیکشن بھلے 90دن میں ہوں، 100دن میں ہوں یا 120دن میں ہوں تاریخ کا اعلان ضرور کردینا چاہیے۔ صاف نظر آرہا تھا کہ اب پیپلز پارٹی جو 90دن کے اندر آئین کی شقوں کے تحت الیکشن کا مطالبہ کر رہی تھی اپنے موقف میں تبدیلی کا نہایت ہی محتاط انداز میں عندیہ دے رہی ہے۔ بلاول بھٹو آج سندھ میں باقاعدہ انتخابی مہم کا آغاز بھی کر رہے ہیں اور بذریعہ سڑک کراچی سے اندرون سندھ روانہ ہونگے۔ ٹھٹھہ اور سجاول میں کارکنوں کے اجتماعات سے بھی خطاب کرینگے ۔ ان خطابات میں وہ انتخابات کی تاریخ اور معیشت کے حوالے سے ایسی گفتگو ضرور کریں گے تاکہ پاکستان کے طاقتور حلقوں کے ساتھ معاملات درست ہوں لیکن اس کےلئے انہیں یہ کہنا پڑے گا کہ معیشت کو درست کرنا فوری انتخابات کے انعقاد سے بہتر آپشن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں