پاکستان کا افغانستان میں دستیاب جدید ہتھیاروں پر تشویش کا اظہار

Afghanistan-news 32

اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان میں دستیاب جدید ہتھیاروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں چھوڑا گیا جدید اسلحہ دہشتگردوں کے ہاتھ چکا ہے اور ان ہتھیاروں سے پاکستان اور اس کے سکیورٹی اداروں پر حملے کیے جارہے ہیں۔جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، جی 20ممالک کی اس طرف توجہ مبذول کرائی ہے، بھارتی قیادت اپنے اندرونی سیاسی معاملات کے زیر اثر ہے، پاکستان بارے غیر ضروری بیانات کا سلسلہ ختم کرے ۔ نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی 12 سے 15 ستمبر کو لندن میں کامن ویلتھ یوتھ وزارتی کانفرنس کی صدارت کریں گے۔
دفتر خارجہ میں میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرابلوچ نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں دستیاب جدید ہتھیاروں پر تشویش ہے، افغانستان میں چھوڑا جانے والا اسلحہ افغان دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ لگ گیا ہے اور ان ہتھیاروں سے پاکستان اور اس کے سکیورٹی اداروں پر حملے کیے جارہے ہیں کسی کو بھی مؤرد الزام نہیں ٹھہراتے تاہم افغانستان میں چھوڑا جانے والا اسلحہ عالمی توجہ کا متقاضی ہے۔ترجمان نے کہا کہ ہم یقین رکھتے ہیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد امن کی سرحد ہونی چاہیے، اگر پاکستان کی طرف سے سرحد بندکی گئی ہے تو اس کی وجہ سکیورٹی کی سنگین صورتحال ہے،سرحد کا متواتر کھلنا دونوں ممالک کے عوام کے لیے فائدہ مند ہے،پاکستان گزشتہ روز کے واقعے جے بعد سرحد کھولنے بارے افغان حکام سے مسلسل رابطے میں ہے ۔افغان شہریوں کے لیے ہزاروں کی تعداد میں ویزا جاری کرتا ہے تاہم ویزا اجراء سے قبل مکمل جائزہ لیا جاتا ہے۔ ہم افغان حکومت سے اس متعلق مذاکرات کررہے ہیں۔ پاکستان کے سکیورٹی ادارے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر پر حالیہ واقعے سے متعلق عبوری افغان حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔ افغان سرزمین سے دہشت گرد حملوں کا معاملہ افغان حکام کے ساتھ اٹھایا ہے۔افغان مہاجرین کی باعزت اور باوقار وطن واپسی چاہتے ہیں،افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے افغانستان میں موذوں ماحول درکار ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ امور کے بیان پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ بھارتی قیادت اپنے اندرونی سیاسی معاملات کے زیر اثر ہے،بھارتی قیادت بھارتی عوام کو درپیش چیلنجز پر توجہ مرکوز کرے بھارتی قیادت پاکستان بارے غیر ضروری بیانات کا سلسلہ ختم کرے ۔بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے جی 20 ممالک کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب مبذول کرائی ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے جی 20 ممالک کو خط لکھ کر آگاہ کیا ہے۔ خطے میں بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں کشمیر میں آزادی اظہار رائے پر پابندیوں کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔
پاک روس تعلقات پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان اہم تعلقات ہیں، دونوں ممالک کے درمیان متعدد وفود کا تبادلہ بھی ہوا۔ بھارتی قیادت پاکستان کے بارے میں تبصروں کی بجائے اپنے چیلنجز پر توجہ دے۔ پاکستان کی اقتصادی صورتحال پر تبصرہ نہیں کر سکتے ،پاکستان اور روس کے تعلقات اہم، وفود کا تبادلہ ہو رہا ہے،دونوں ممالک کے مابین توانائی کے حوالے سے تعاون جاری ہے نگران وزیر خارجہ کے دورہ برطانیہ کے حوالے سے معاملات کو حتمی شکل دے رہے ہیں، نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی 12 سے 15 ستمبر کو لندن میں کامن ویلتھ یوتھ وزارتی کانفرنس کی صدارت کریں گے اور کامن ویلتھ کانفرنس میں شریک مختلف ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔
چترال حملے پر ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ چترال کی صورتحال پر افغان حکام سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے، اس صورتحال پرہوم ڈیپارٹمنٹ اورمتعلقہ ادارے تفصیل دے سکتے ہیں۔خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے تشکیل دی گئی ہے ،پاکستان خلیج تعاون کونسل ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری لانے کے لیے کوشاں ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں