نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ محفوظ ۔۔جلد سنائے جانے کا امکان۔۔ججز کے ریمارکس

NAB Supreme court case 31

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال نے کہا کہ نیب ریفرنسز کی واپسی کی وجوہات سے اندازہ ہوتا ہے کہ جھکاؤ کس جانب ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اربوں روپے کے کیسز منجمد کر کے ہاتھ کھڑے کر دیئے گئے۔
نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، بینچ کے دیگر 2 ارکان میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ میں شامل ہیں۔ منگل کے روز سماعت کے آغازپر وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت کو بتایا کہ تحریری گزارشات جمع کروا دی ہیں۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کیا آپ نے نیب کی رپورٹ پڑھی ہے۔ نیب نے مئی تک واپس ہونے والے ریفرنسز کی وجوہات بتائی۔ واپسی کی وجوہات سے اندازہ ہوتا ہے کہ جھکاؤ کس جانب ہے۔کن شخصیات کے ریفرنس واپس ہوئے سب ریکاڑد پر آچکا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نیب قانون کے سیکشن 23 میں ایک ترمیم مئی اور دوسری جون میں آئی۔مئی سے پہلے واپس ہونے والے ریفرنس آج تک نیب کے پاس ہی موجود ہیں۔نیب کی جانب سے ان سوالات کے جواب کون دے گا۔نیب کے اسپیشل پروسیکیوٹر نے سوال کے جواب میں کہا کہ ایڈیشنل پروسیکیوٹر جنرل کچھ دیر تک پہنچ جائیں گے۔خواجہ حارث نے کہا کہ ترامیم کے بعد بہت سے زیرالتواء مقدمات کو واپس کر دیا گیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ترامیم کے بعد نیب کا بہت سا کام ختم ہوگیا۔وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اگر نیب کیس بنتا ہو تو کیسز دوسرے فورمز کو بھجوائے جائیں گے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نیب کے پاس مقدمات بھیجنے کا قانونی اختیار ہے۔ جس پر وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ترامیم کے بعد مقدمات کو ڈیل کرنے کا اختیار نیب کے پاس نہیں۔ نیب کے پاس مقدمات بھجوانے کا بھی کوئی قانونی اختیارنہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ایسا نہیں کہ مقدمات نیب سے ختم ہوکر ملزمان گھر چلے جائیں۔نیب دفتر میں قتل ہوگا تو کیا معاملہ متعلقہ فورم پر نہیں جائے گا۔مقدمات بھجوانے کیلئے قانون کی ضرورت نہیں، جو مقدمات بن چکے وہ کسی فورم پر تو جائیں گے۔وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب مقدمات واپس ہونے سے تمام افراد گھر ہی گئے ہیں۔ نیب ترامیم وہی ہیں جن کی تجویز پی ٹی آئی دور میں دی گئی تھی۔کہا گیا کہ میں ذاتی طور پر فائدہ اٹھا چکا ہوں۔اگر میں نیب ترامیم سے فائدہ اٹھاتا تو عدالت کے سامنے کھڑا نہ ہوتا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم درخواست گزار کا کنڈکٹ نہیں دیکھ رہے۔ہم دیکھ رہے ہیں قانون سے مفاد عامہ کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔جسٹس منصور علی شاہ نے دوبارہ استفسار کیا کہ کیا اٹارنی جنرل آرہے ہیں۔جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے بتایا کہ اٹارنی جنرل بیرون ملک ہیں۔وہ اپنا تحریری جواب آج جمع کرائیں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں بتا دیتے ہم ریگولر بینچ چلا لیتے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ احتساب عدالتوں میں چلنے والے مقدمات منجمد کر دیئے گئے۔ اربوں روپے کے کیسز منجمد کر کے ہاتھ کھڑے کر دیئے گئے۔وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نیب ترامیم سے فائدہ نہیں اٹھا رہے، ترامیم کے تحت دفاع آسان ہے۔نیب کو بتا دیا کہ فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔ نیب کو جمع کرایا گیا بیان بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ زیرالتواء تحقیقات ترامیم کے بعد سرد خانے کی نذر ہوچکی ہیں۔مکینزم بننے تک عوام کے حقوق براہ راست متاثر ہوں گے۔
وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو بھی 62 ون ایف کے ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے۔منتخب نمائندے اپنے اختیارات بطور امین استعمال کرتے ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ اعلی عدلیہ کے ججز کو نیب قانون میں استثنیٰ نہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قانون میں ان جرائم کی ٹھوس وضاحت نہ ہونا مایوس کن ہے۔عوام کو خوشحال اور محفوظ بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ درخواست گزار کا کیس ہے کہ جرم کی سزا کو بدل دیا گیا ہے۔کیا نیب ترامیم کے ماضی کے اطلاق سے جرائم کو ختم کیا جا سکتا ہے، آخر قانون کے ماضی سے اطلاق کا مقصد کیا ہے۔مقصد تو یہ ہوا کہ مجرم کہے میری سزا ختم اور پیسے واپس کرو۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو کہہ سکتی کہ بدنیتی پر مبنی قانون بنایا۔جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ کو سب کچھ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ پارلیمنٹ ماضی سے اطلاق کا قانون بنا کر جرم ختم نہیں کر سکتی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نیب قانون کوواضح ہونا چاہیے تھا۔جب قانون واضح نہ ہوتواس کا حل کیا ہوتا ہے۔کیا مبہم قانون قائم رہ سکتا ہے۔
جسٹس منصورشاہ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے دوبارہ استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ قوانین واپس پارلیمنٹ کو بھیج سکتی ہے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ تو بہت سپریم ہے، ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اب ازخود نوٹس نہیں لیتے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کا فیصلہ جلد سنایا جائیگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں