حکومت کا آئی ایم ایف کو دیا گیا پلان مسترد۔۔بجلی ریلیف پر کچھ نہ ہو سکا

IMF-and-pakistan 15

عوام میں تاحال بجلی بلوں میں کوئی ریلیف نہ مل سکا،آئی ایم ایف نے بھی ریلیف پلان کو مسترد کر دیا،پاور ڈویژن حکام کے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ سبسڈی سے باہر نہیں جاسکتے جبکہ بجلی کے بل کم نہیں کئے جائیں گے، آئی ایم ایف سے بجلی بلوں میں ریلیف کا پلان پر اتفاق نہ ہو سکا.
پلان میں بتایا گیا تھا بلوں میں ریلیف سے ساڑھے 6 ارب سے کم امپیکٹ آئے گا، ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف نے پلان مسترد کرتے ہوئے 15 ارب سے زائد کا امپیکٹ بتایا، آئی ایم ایف نے 15 ارب کی مالیاتی گنجائش پوری کرنے کا پلان بھی پوچھ لیا، آئی ایم ایف کے ساتھ دوبارہ پلان شیئر کیا جائےگا جس کے باعث تاخیر ہو رہی ہے۔
وزارت خزانہ حکام کے مطابق نیا پلان شئیر ہونے پر آئی ایم ایف حکام اور وزارت خزانہ دوبارہ بات کریں گے۔بلوں میں ریلیف دینے کیلئے بجٹ سے آؤٹ نہ ہونے کی آئی ایم ایف کو یقین دہانی کروائی ہے، بلوں کو چار ماہ میں وصول کرنے کیلئے آئی ایم ایف سے درخواست کی تاہم بجلی کے بلوں کو کم کرنے کا کوئی آپشن زیرغور نہیں ہے۔ گھریلو صارفین کو بجلی کے بلوں میں ریلیف پر آئی ایم ایف سے بات چیت جاری ہے۔
حکام پاور ڈویژن کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ابھی بھی وصولیوں میں شارٹ فال ہے بجلی کے بلوں میں شامل ایڈجسٹمنٹس کو کچھ وقت کےلئے موخر کرنے کا آپشن زیرغور ہے۔ گھریلو صارفین کو ماہانہ ایڈجسٹمنٹ یا سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں ریلیف دیا جاسکتاہے ، کسی بھی ریلیف یا بل موخر کرنے سے قبل آئی ایم ایف کی اجازت ضروری ہےاگر بغیر اجازت بل موخر یا ایڈجسٹمنٹ موخر کریں تو گردشی قرض بڑھے گا ۔گردشی قرض وصولیوں اور سبسڈی کے حوالے سے آئی ایم ایف کے اہداف کی پیروی لازمی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں