سب سے بڑی سیاسی جماعت انتقام کی زد میں۔۔چیئرمین سمیت اعلیٰ قیادت جیل میں۔۔ترجمان تحریک انصاف

PTI-Celebration-14august 20

پاکستان میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کو عالمی عدالتوں میں اٹھانے کا معاملہ ، پاکستان تحریک انصاف کی ملک میں جاری بدترین ریاستی جبر و فسطائیّت کی شدید مذمت کی، ترجمان تحریک انصاف کے مطابق پاکستان بلاشبہ دستور سے بدترین انحراف اور اندھی لاقانونیت کی زد میں ہے، وفاقِ پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول ترین سیاسی جماعت کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم تاریخ کے بدترین انتقام کی بھینٹ چڑھتے ہوئے خلافِ قانون جیل میں قید ہیں، قاتلانہ حملے کا نشانہ بنائے جانے اور حملے کی تحقیقات سبوتاژ کرنے کے علاوہ انصاف کیخلاف محض 16 ماہ کے دوران 180 سے زائد جھوٹے اور جعلی مقدمات قائم کرکے قانون و انصاف کی دھجیاں اڑائی گئیں، پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی بھی مسلسل ماورائے آئین و قانون انتقام کی زد میں ہیں۔
ترجمان تحریک انصاف کے مطابق تحریک انصاف کے صدر چودھری پرویز الہٰی کو کل لاہور ہائیکورٹ کے واضح حکم کو پیروں تلے روندتے ہوئے پوری ڈھٹائی سے گرفتار اور جیل میں بند کیا گیا، تحریک انصاف جنوبی پنجاب کے صدر سینیٹر عون عباس بپّی کو دس روزہ جبری گمشدگی کے بعد بدترین دباؤ اور تشدد سے جماعت سے علیحدگی کے اعلان پر مجبور کیا گیا، تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کو پشاور ہائیکورٹ کی ضمانت کے باوجود گرفتار کیا گیا جبکہ تحریک انصاف شمالی پنجاب کے صدر صداقت علی عباسی کل سے جبری طور پر لاپتہ ہیں، علی محمد خان، شہریار آفریدی، شاندانہ گلزار سمیت درجنوں سیاسی قیدی ایسے ہیں جنہیں عدالتی احکامات کو ردّی کی نذر کرتے ہوئے بار بار گرفتار اور بدترین ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، گزشتہ 17 ماہ سے بالعموم اور 9 مئی کے بعد سے بالخصوص تحریک انصاف ریاست کے ماورائے آئین و قانون عتاب کے نشانے پر ہے، بزرگ قائدین اور خواتین کارکنان سمیت تحریک انصاف کے دس ہزار سے زائد کارکنان جیلوں میں قید، انصاف و حقوق سے مکمل طور پر محروم ہیں۔
ترجمان تحریک انصاف کے مطابق پاکستان کے صفِ اوّل کے تحقیقاتی صحافی ارشد شریف شہید کئے جاچکے ہیں اور ریاست ان کے قتل کی تحقیقات اور ان کے اہلِ خانہ کو فراہمئ انصاف پر بھی ہرگز آمادہ نہیں، ملک میں آزادئ اظہار دم توڑ چکی ہے جبکہ آزاد صحافت و اہلِ صحافت بھی ماورائے آئین و قانون عتاب کا شکار ہیں، عمران ریاض خان درجنوں عدالتی سماعتوں کے باوجود جبری طور پر لاپتہ ہیں اور ریاست ان کی بازیابی کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عمل کیلئے ہرگز تیار نہیں، پنجاب و پختونخوا کی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد سپریم کورٹ پنجاب میں 14 مئی کے انتخابات کے حوالے سے اپنے حکم پر عملدرآمد میں یکسر ناکام رہی، جبر، بربریت اور ننگی لاقانونیّت کے سامنے نظامِ عدل کا افسوسناک عِجز و اضمحلال قوم کیلئے مایوس کن ہے، تاہم تحریک انصاف پاکستان کے نظامِ انصاف ہی سے حقوق و انصاف کی طلبگار اور ملک کے نظامِ عدل سے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لئے مؤثر اقدامات کے متقاضی ہیں، ایک غیرملکی قانونی فرم کے حوالے سے زیرِگردش گمراہ کن اطلاعات میں کوئی صداقت ہے نہ ہی ایسے کسی اقدام کو جیل میں قید چیئرمین تحریک انصاف کی تائید حاصل ہے، پاکستان سے باہر کسی عدالتی فورم سے رجوع کیا ہے نہ ہی ایسا کوئی ارادہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں