چوہدری پرویز الٰہی اور اٹک جیل بیرک نمبر 2D

chata dervaish sami ibrahim 64

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق کے واضح احکامات کے باوجود چوہدری پرویز الٰہی کو اٹھا لیاگیا ، اٹھانے والوں نے عدلیہ کی ایسی تیسی کر دی، حامد میر نے بالکل درست کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عدلیہ اپنی دھجیاں اکٹھی کر کے اختیارات کو دوبارہ حاصل کرنے کےلئے قانون کا پرچم لہرائے۔ اٹھانے والوں نے چوہدری پرویز الٰہی کو راتوں رات اٹک جیل پہنچا دیا وہاں وہ بیرک نمبر 2Dمیں بند ہیں جس کا سائز 9×12فٹ ہے۔ جیل حکام نے بیرک الاٹ کرتے وقت چوہدری پرویز الٰہی کا درجہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے برابر کر دیا۔ عمران خان کے سیل کا بھی یہی سائز ہے لیکن واش روم کی دیوار بہت چھوٹی تھی جس کی وجہ سے انتظامیہ نے دل کھول کر ناجانے کس کےلئے خان صاحب کی بے تحاشا ویڈیوز بنائیں۔ چوہدری پرویز الٰہی 77سال کے ہیں جسم بھی کوئی اتنا توانا اور مضبوط نہیں ہے ، دیوار بھی ڈھائی فٹ سے اونچی ہے اور ہو سکتا ہے ان کی ویڈیوز کی اتنی ڈیمانڈ بھی نہ ہو۔ جیل حکام نے میڈیا کو یہ خبر فیڈ کی کہ چوہدری پرویز الٰہی کو ناشتے میں انڈے، چنے ، پراٹھے اور چائے پیش کی گئی ، یقین نہیں آتا اس بات کو دل تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور اس کی وجہ چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری یا اغوا کے وہ مناظر ہیں جو میڈیا کے ذریعے پورے پاکستان نے دیکھے اور بہت سے ذہنوں میں ہمیشہ ہمیشہ کےلئے نقش ہو گئے۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس ، چہروں کو نقاب میں چھپائے توانا اور مضبوط مبینہ اغوا کاروں نے چوہدری پرویز الٰہی کو چڑیا کے بچے کی مانند گاڑی سے کھینچ کر نکالا ، ایک سفید ٹیوٹا کار میں ڈالا اور فرار ہو گئے۔د عویٰ کیاگیا کہ یہ اسلام آباد پولیس کے جوان تھے۔ مان لیتے ہیں اسلام آباد پولیس والے ہی ہونگے لیکن جو کچھ 12گھنٹے قبل کینال روڈ پر چوہدری پرویز الٰہی صاحب کے ساتھ ہوا اس کو دیکھتے ہوئے دل ماننے کو تیار ہی نہیں کہ 12گھنٹے کے بعد ہی حالات ایسے بدل گئے ہونگے اور چوہدری صاحب کی شفقت نے جیل حکام کو انڈے، چنے اور پراٹھے لانے پر مجبور کر دیا ۔ یہ تو چوہدری صاحب اپنی رہائی کے بعد خود ہی بتائیں گے کہ ناشتے میں ان کی تواضع کیسے کی گئی لیکن مجھے یقین ہے کہ 9×12کے اس سیل میں چوہدری صاحب بھی وہی حالات کا سامنا کر رہے ہونگے جو ابتدائی دنوں میں عمران خان صاحب نے دیکھے۔ اب تو جیل حکام دعویٰ کرتے ہیں کہ خان صاحب کو بیڈ بھی دے دیا ہے ، تکیے بھی دے دئیے ہیں، گدا بھی دے دیا ہے، ٹیلی ویژن بھی لگا دیا ہے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ صرف پی ٹی وی کی نشریات آتی ہیں ، گویا بظاہر ٹی وی کی فراہمی کا تعلق خبروں تک رسائی دینا نہیں بلکہ ایک عذاب مسلسل میں مبتلا کرنا ہے۔
اٹک جیل میں منتقلی سے پہلے چوہدری صاحب کا سرکاری ہسپتال میں طبی معائنہ کیا گیا اور اس کے بعد فوری طور پر رپورٹ جاری کی گئی کہ ماشا اللہ ما شا اللہ چوہدری پرویز الٰہی مکمل طور پر توانا اور تندرست ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ 77سال کا بندہ اچھے حالات میں بھی مکمل توانا اور تندرست نہیں ہو سکتا اور چوہدری صاحب تو گزشتہ 4ماہ سے سرکاری تحویل میں ہیں ، دل کے مرض میں بھی مبتلا ہیں، بہت کمزور بھی ہو چکے ہیں اور سردار لطیف خان کھوسہ کے مطابق جب انہیں گاڑی سے کھینچ کر نکالا جارہاتھا تو وہ تقریبا نیم بیہوشی کے عالم میں تھے لیکن یقینا ان سرکاری ڈاکٹروں کی پیشہ وارانہ قابلیت اور مہارت سے کوئی انکار کس طرح کر سکتا ہے۔ خرابی میرے ذہن میں ہے جو اس طرح کے خیالات آرہے ہیں ، ڈاکٹرز کی رپورٹ اور پھر سرکاری رپورٹ ، یہ تو یقینا حقائق پر مبنی ہو گی۔
دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ میں مکمل سناٹا ہے چوہدری صاحب کی فیملی نے چوہدری صاحب کے اغوا کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے اور توہین عدالت کا نکتہ اٹھا کر لاہور جی پی او چوک پر واقع اس سرخ اینٹوں کی پرانی عمارت کے مکینوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ابھی تک ایسی کوئی علامت دیکھنے میں نہیں آئی کہ ہم سمجھیں کہ لو جی بیداری ہو گئی ہے اور اب کچھ نہ کچھ ہوگا۔ فی الحال تو سب چین کی نیند سو رہے ہیں اور سب اچھا کی خبریں پاکستان کا مین سٹریم میڈیا چلا چلا کر غریبوں کے خالی میدے بھرنے کی اور آزاد ذہنوں کو سلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں