انتخابات 90روز کے اندر ہی ہونگے۔۔اہم عدالتی حکم آگیا

chata dervaish sami ibrahim 79

سپریم کورٹ کے بنچ نمبر 1 جس کی سربراہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کر رہے تھے اور ان کے دائیں اور بائیں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بیٹھے تھے ۔ اور ایک نہایت ہی اہم معاملہ زیر غور تھا اور یہ معاملہ تھا پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی ریویو درخواست کا ۔مجھے اجازت دیں کہ میں اس مقدمے کا تھوڑا بیک گرائونڈ آپ کو بیان کر دوں تاکہ آپ کو جو کچھ آج ہوا اس کی اہمیت کا مکمل طور پر ادراک ہو جائے۔ چند ماہ پہلے عدالت نے حکم دیا تھا کہ پنجاب میں الیکشن 14مئی کو کرائے جائیں اورالیکشن کمیشن نے عدالت میں یہ یقین دلایا تھا کہ اگر انہیں فنڈز اور سکیورٹی دے دی جائے تو 90دنوں کے اندر اندر انتخابات کروا دئیے جائیں گے لیکن اس کے بعد انتخابات کی تاریخ تبدیل کی گئی اور یہ کام الیکشن کمیشن نے کسی کی بھی مشاورت کے بغیر کیا۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات کو خود ملتوی کرنے کے بعد 90روز کے اندر اندر انتخابات کرانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی ۔ یہ درخواست تو کئی ماہ پرانی تھی لیکن اس کی سماعت آج ہوئی۔ سماعت میں تاخیر کی وجہ آپ سب جانتے ہیں یہاں اگر میں وجہ بتانے سے اجتناب کروں تو اس میں ہم سب کا فائدہ ہے۔ لیکن آج سپریم کورٹ کے جو ریمارکس آئے وہ بہت اہم ہیں اور ان کا پاکستان میں قومی اسمبلی کے انتخابات سے گہرا تعلق ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس کے اثرات اس قانون سازی اور تبدیلی پر بھی ہونگے جو شہباز حکومت نے الیکشن ایکٹ سیکشن 57میں کی اور بظاہر یہ دعویٰ کیا گیا کہ اب انتخابات کی تاریخ کا تعین صدر مملکت نہیں الیکشن کمیشن کرےگا اور پھر کونسل آف کامن انٹرسٹ میں جس میں دو صوبوں کی اس لئے نمائندگی نہیں تھی کہ وہاں نگران وزیراعلیٰ بیٹھے تھے یہ فیصلہ کروا لیا کہ نئی مردم شماری کے تحت نئی حلقہ بندیاں ہوں گے اور پھر انتخابات کرائے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن نے فورا حامی بھر لی کہ نئی مردم شماری کے تحت حلقہ بندیاں ہوں گی اور پھر انتخابات کرائے جائیں گے جس کی وجہ سے انتخابات 90دنوں میں نہیں ہو سکتے لیکن آج سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے یہ فیصلہ دہرا دیا کہ الیکشن کی تاریخ میں تبدیلی کا اختیار الیکشن کمیشن کو نہیں ہے اگر کسی وجہ سے الیکشن کی تاریخ میں تبدیلی کرنا ہے تو اس کےلئے عدالت میں آکر وجوہات بیان کرنی ہوں گی اور اگر عدالت ان وجوہات سے متفق ہوجائے تو پھر آگے کا راستہ عدالت دے سکتی ہے اس کے علاوہ آئین میں کوئی گنجائش نہیں کہ انتخابات کی تاریخ میں تبدیلی کی جاسکے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے اس نظرثانی درخواست کے ذریعے بلواسطہ طور پر اپنے دلائل میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ الیکشن کی تاریخ میں تبدیلی کا اختیار کمیشن کے پاس ہے لیکن عدالت نے واضح انداز میں یہ کہا کہ اس قسم کا کمیشن کے پاس کوئی اختیار نہیں اور اس معاملے کو اس طرح بیان کرنا کہ جو اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہے سپریم کورٹ اس کو لینے کی کوشش کر رہا ہے بالکل غلط ہے۔ پاکستان میں آئین کی بالادستی ہے اور آئین میں یہ بات وضاحت سے لکھی جاچکی ہے کہ کس ادارے کا کیا اختیار ہے، الیکشن کی تاریخ آئینی معاملہ ہے اور آئین کہتا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس اس کا اختیار نہیں ہے۔ اگر کسی نے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کرنے کی کوشش کی تو عدالت فوری طور پر مداخلت کرے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ آئین کی بالادستی قائم رہے ۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کے حوالے سے مردم شماری اور اس سے متعلقہ حلقہ بندیوں کا معاملہ اگرچے آئینی ہے لیکن یہ تمام شقیں کمپلیمنٹری ہیں۔
اس فیصلے سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ صدر کے پاس الیکشن کی تاریخ طے کرنے کا اختیار آئینی ہے اور اس کو تبدیل عام قانون سازی کے ذریعے نہیں کیا جاسکتا اس کےلئے آئینی ترمیم کرنا لازمی ہے اور اگر نگران حکومت 90دنوں کے اندر الیکشن نہیں کروا سکتی اس کو عدالت میں آنا پڑے گا۔ مردم شماری اور حلقہ بندیوں کا معاملہ اتنا اہم نہیں جتنا 90دنوں کے اندر انتخابات کروانا ہے۔ اس فیصلے سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ الیکشن کمیشن نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے، عدالتی احکامات کو ہوا میں اڑایا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عدالت پچھلی کابینہ جس نے فنڈز اور سکیورٹی دینے سے انکار کیا کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے یا نہیں۔ ۔ یہ بات بھی طے ہو گئی کہ الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ میں تبدیلی کےلئے دوبارہ سپریم کورٹ آنا پڑے گا۔
ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں آنے والی سیاست میں عدالتی کردار انتہائی اہم ہوگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے پاس دو ہفتے رہ گئے ہیں جس میں انہیں بہت سارے اہم کیسز کا ابھی فیصلہ کرنا ہے۔ یہ بھی اطلاعات آرہی ہیں کہ اگلے ہفتے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی 90روز کے اندر اندر انتخابات کرانے کے حوالے سے پٹیشن کو سماعت کےلئے مقرر کیا جاسکتا ہے۔ یہ رائونڈ بہت دلچسپ ہوگا کیونکہ ایک تجویز یہ ہے کہ اس معاملے کی سماعت کےلئے فل کورٹ تشکیل دی جائے تاکہ ایسا حل نکالا جائے جو سب کےلئے قابل قبول ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں