بلوں میں ریلیف دینے پر ٹیکس ہدف کیسے پورا کیا جائیگا؟آئی ایم ایف نے پلان مانگ لیا۔۔ٹیکس ہدف پورا نہ کرنے پر سوال و جواب

IMF-and-pakistan 21

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچول رابطہ ۔۔آئی ایم ایف کو بجلی کے بلوں میں اضافے کے بعد کی صورتحال سے اگاہ کیا گیا جبکہ آئی ایم ایف نے بجلی کے بلوں میں ریلیف کے لیے تحریری پلان مانگ لیا، آئی ایم ایف کے ایف بی آر حکام سے ٹیکس کے ہدف کے حصول میں ناکامی کی وجوہات پر سوالات و جوابات کئے گئے۔
نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر جا آئی ایم ایف کی نمائندہ ایسٹر پریز سے رابطہ ہوا، آئی ایم ایف نمائندہ کو بجلی کے بلوں میں اضافے کے بعد کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا، ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف نے بجلی کے بلوں میں ریلیف کے لیے حکومت پاکستان کے موقف پر بریفنگ لی، وزارت خزانہ کی جانب سے آج شام کو آئی ایم ایف کو تحریری پلان بھیجے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب آئی ایم ایف اور ایف بی آر حکام کے درمیان مذاکرات ہوئے، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، آئی ایم ایف حکام نے ایف بی آر سے جولائی میں ٹیکس وصولی پر بریفنگ حاصل کی ۔ ایف بی آر نے مالی سال 2022-2023 کے ہدف پر تبادلہ خیال کیا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے ایف بی آر کے ہدف کے حصول میں ناکامی کی وجوہات پر سوالات و جوابات کئے گئے جبکہ موجودہ مالی سال کے اہداف کے حصول کےلئے سٹرٹیجی پر بات چیت کی گئی
ایف بی آر نے بریفنگ دی کہ رواں مالی سال کا ہدف حاصل کرلیا جائیگا ، ستمبر میں ہونیوالی میٹنگ میں رواں مالی سال وصولیوں پرتبادلہ خیال کیا جائیگا ۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف حکام نے استفسار کیا کہ اگر بجلی بلوں میں عوام کو ریلیف دیا جائے تو ٹیکس وصولیوں میں کتنی رقم کم ہوگی ، بجلی کے بلوں میں ریلیف ٹیکس کم کردینگے یا کسی اور مد سے یہ رقم نکالیں گے ، آئی ایم ایف کا نگراں وزیر خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر کا ایک اور سیشن ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں