ترامیم کےخلاف آج نوٹس کیا تو ہزاروں لوگ آجائیں گے، چیف جسٹس کے نیب ترامیم کیس میں ریمارکس

supreme-court-judges 20

نیب ترامیم کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ نیب ترامیم کو ماضی سے موثر کیا گیا ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ آپ نے حلف اٹھایا ہے۔آپ نے فیصلہ اچھے برے پر نہیں کرنا۔آپ نے معاملہ کا فیصلہ حلف اور آئینی معیار پر کرنا ہے۔نیب نے چھوٹی مالیت کے کیسز بھی بنائے۔بلوچستان ہائیکورٹ نے نیب کے چھوٹے مالیت کے مقدمات پر آبزرویشنز دی۔کیا احتساب کرنا صرف نیب کا کام ہے۔احتساب کے دوسرے ادارے بھی موجود ہیں۔1947سے 1999 تک نیب خا ادارہ نہیں تھا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نیب کے ادارہ کو پارلیمنٹ نے کیوں ختم نہیں کیا۔وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نیب قانون ہمیشہ سے برا اور کالا قانون تصور کیا گیا۔ پارلیمنٹ کا اختیار ہے ادارہ کو ختم کردے یا قانون میں ترامیم کرے۔پارلیمنٹ نے نیب قانون میں ترامیم کا فیصلہ کیا۔چیف جسٹس بندیال نے کہا کہ نیب ترامیم میں انکوائری سطح پر گرفتاری ختم کردی گئی۔بعد ازاں انکوائری اسٹیج پر گرفتاری نہ کرنے کی شق ختم کردی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کرپشن سے معاشرے میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔اچھی زندگی گزارنے کے حق کی آئین گارنٹی دیتا ہے۔پبلک پراپرٹیز عوام کی ملکیت ہوتی ہے۔ترامیم میں شواہد پیش کرنے کے طریقہ کار کو مشکل بنا دیا گیا ہے۔آپ کہتے ہیں ترامیم کیخلاف عوام نے عدلیہ سے رجوع نہیں کیا۔آج نوٹس کرے ہزاروں لوگ ترامیم کےخلاف آجائینگے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیوں نہ معاملہ انتخابات کے بعد آنے والی نئی پارلیمنٹ کو بھجوا دیا جائے۔عدالت کی مخدوم علی خان کو نیب ترامیم کے ماضی سے اطلاق پر دلائل دینے کی ہدایت کر دی، مقدمہ کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں