بلوچستان.سول سروس اور سیکرٹریٹ سروس گروپ کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا

balochistan 10

کوئٹہ(یاسین ایاز شاہانی سے)صوبہ بلوچستان میں حکومتی اور ریاستی امور کے کارہائے منصبی سرانجام دینے کے لیے دو سروسز گروپس ہیں جو بلوچستان سول سروس اور سیکرٹریٹ سروس گروپ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان دو گروپس میں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتیاں کی جاتی ہیں۔ لیکن آج کل یہ دونوں گروپس حکومتی اور ریاستی کارہائے منصبی سرانجام دینے کی بجائے ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں اور حکومتی و انتظامی امور چلانے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہے۔
سابقہ وزیر اعلیٰ بلوچستان، جام کمال صاحب کے دورِ حکومت میں بلوچستان سول سروسز اور سیکرٹریٹ سروسز گروپس کے درمیان تنازع کے حل کے لئے ایک 21 رکنی پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی۔ بلوچستان ہائی کورٹ میں دونوں گروپوں کے درمیان 10 سال سے زائد زیرالتوا مقدمہ بھی معزز ہائی کورٹ نے اسی کمیٹی کو ریفر کیا تاکہ بلوچستان سول سروسز اور سیکرٹریٹ سروسز گروپس کے درمیان یہ تنازع حکومتِ وقت حل کرے۔
یاد رہے کہ بلوچستان سیکرٹریٹ سروسز اور بلوچستان سول سروسز یعنی فیلڈ سروس میں افسران صوبائی سطح پر منعقد ہونے والا امتحان پاس کرکے تعینات ھوتے ہیں، لیکن ان دونوں سروسز گروپس کے درمیان شروع سے ایک قانونی تنازع چل رہا ہے۔

21 رکنی پارلیمانی کمیٹی نے کافی غور اور جائزے کے بعد درج زیل سفارشات جام صاحب کے حکومت کو پیش کیں:-

1) بلوچستان سیکرٹریٹ سروسز اور بلوچستان سول سروسز کے درمیان غیر منصفانہ پروموشن شئیر کو وفاق سے ملنے والی 32 پوسٹیں بلوچستان سیکرٹریٹ سروسز کو دے کر حل کیا جائے۔

بلوچستان میں پروونشل مینجمنٹ سروسز کو نافذ کیا جائے تاکہ آئندہ وقتوں کے لئے یہ مسئلہ نہ ہو اور دو علیحدہ سروسز کے بجائے ایک یونیفائیڈ سروس یعنی پروونشل مینجمنٹ سروسز صوبائی انتظامی امور چلائے۔ موجودہ بلوچستان سول سروسز کے افسران بنا کسی سروس رول کے سیکریٹیریٹ میں بھی بطور سیکشن آفیسر، ڈپٹی سیکریٹری اور سیکریٹری کی پوسٹنگ لیتے ہیں جو کہ غیر قانونی ہے۔ بلوچستان سیکرٹریٹ سروسز کے آخری بیچز کے افسران جو بلوچستان پبلک سروس کمیشن کی طرف سے منعقدہ مقابلے کا امتحان پاس کرنے کے بعد سیکشن آفیسر لگے ہیں، کو بھی بنیادی تربیت کے بعد فیلڈ میں بطور اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر تعینات کیا جائے۔ جام صاحب کے صوبائی کابینہ نے 21 رکنی کمیٹی کے سفارشات متفقہ طور پر منظور کیے اور ساتھ ہی ایک کمیٹی بنائی کے دونوں سروسز گروپس کے افسران اپنے تحفظات کمیٹی کے سامنے ایک مہینے کے اندر پیش کریں گے جس کا بلوچستان سول سروسز گروپ نے بائیکاٹ کیا-

صوبائی کابینہ کے منظوری کے بعد، پہلے شِق کے تحت 32 وفاقی پوسٹیں جو بلوچستان سیکرٹریٹسروسز گروپ کو ملنی تھیں، جس پر بلوچستان سول سروسز گروپ والوں نے احتجاج کیا اور بالآخر سیکرٹیریٹ سروسز گروپ کی طرف سے فراخ دلی کا مظائرہ کیا گیا اور ان پوسٹوں میں سے 40 فیصد بلوچستان سول سروسز گروپ کو دی گئیں۔ کابینہ کے فیصلے کے پہلے شِق سے فائدہ اُٹھانے کے بعد بلوچستان سول سروسز کے آفیسران باقی دو شِکوں سے مکر گئے اور غیر قانونی احتجاج کا راستہ اپنا لیا۔ میر عبد القدوس بزنجو کے دور میں تحفظاتی کمیٹی نے دونوں سروسز گروپس سے مشاورت کے بعد رپورٹ پیش کی کہ کابینہ کے فیصلے کو بلوچستان کے انتظامی مفاد میں نافذ کیا جائے، جسکی وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے منظوری دی۔

اب فیلڈ افسران کابینہ کے فیصلے کے خلاف ہیں اور پروونشل مینجمنٹ سروسز کا نفاذ نہیں ہونے دے رہے اور نہ ہی سیکرٹیریٹ سروسز گروپ کے آخری 3 بیچز کو فیلڈ میں آنے کی اجازت دے رہے ہیں، حالانکہ خود بنا کسی سروس رول کے سیکرٹیریٹ کے پوسٹوں پر نہ صرف بیٹھے ہیں بلکہ غیر قانونی پروموشن بھی لیتے ہیں۔ سابقہ چیف سیکرٹری عبدالعزیز عقیلی نے حکومتی احکامات کے برخلاف صوبائی کابینہ کے فیصلے کو نافذ نہیں کر رہے تھے اور حیلے بہانے سے کام لے رہے تھے تاکہ دونوں گروپس آپس میں الجھے رہیں اور موصوف کا تبادلہ نہ ہونے پائے۔
مزید یہ کہ پروونشل مینجمنٹ سروسز کے نفاذ سے صوبائی سول سروس مضبوط ہوگی اور ڈی ایم جی جوکہ صوبے پر قابض ہے، پنجاب، سندھ اور خیبر پختون خواہ کی طرح کمزور پڑ جائے گی جہاں PMS سسٹم رائج ہے۔ ایک مفاد پرست ٹولہ جو کہ فیلڈ میں زمباد گاڑی، پٹرول اور چین کا پیسہ کھا رہے ہیں یہ نہیں چاہتے کہ بلوچستان کے قابل اور محنتی نوجوان فیلڈ میں بہتر کردار ادا کر سکیں۔

پی ایم ایس(PMS) کے نفاذ سے بلوچستان میں یہ جھگڑا ہمیشہ کے لئے ختم ہوگا۔ اور آنے والے PCS امتحان کے تحت جو افسران تعینات ہونگے وہ سیکرٹریٹ اور فیلڈ میں بلا امتیاز جا سکیں گے۔ مزید یہ کہ پی ایم ایس باقی تینوں صوبوں میں ہے اور وہاں طلباء پی ایم ایس اور سی ایس ایس کے لئے ایک ہی کورس پڑھتے ہیں۔ جبکہ بلوچستان میں طلباء کو الگ الگ سلیبس پڑھنا پڑتا ہے۔ سِتم ظریفی یہ ہے کہ دو پیپرز پاس کر کے بھرتی ہونے والا
تحصیلدار جو کہ بورڈ آف ریونیو کا ملازم ہے، وہ بھی سیکرٹریٹ میں سیکشن آفیسر تعینات ہوتا ہے جوکہ سراسر عدالتی فیصلوں کے برعکس غیر قانونی ہے اور اسکے خلاف عدالت سےجلد رجوع کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں