چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطل نہ ہوسکی۔۔رحم کی اپیل نہیں کر رہے آئینی حق مانگ رہے ہیں،سردار لطیف کھوسہ برہم

imran-khan-and-latif-khosa 20

اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری سماعت کی، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء لطیف کھوسہ، سلمان اکرم راجہ و دیگر روسٹرم پر آ گئے، وکیل شیرافضل مروت نے بتایا کہ ہمیں چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سمجھ نہیں آ رہی کہ آپکو ملاقات سے کیوں روکا گیا ہے، میں نے تو کہا تھا دو تین وکلاء ملاقات کیلئے چلے جائیں اور زیادہ رش نہ ہو، بابر اعوان نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود جیل انتظامیہ وکلاء سے ملاقات نہیں کرا رہے ہیں، بے شک ایک ایک یا دو دو کریں مگر ملاقات کی اجازت دی جائے، عدالت نے کہا کہ اس دن جیل سے کوئی آیا تھا انہوں نے کہا کہ ملاقات کراتے ہیں، ایک دن کا کہا گیا کہ آپ لوگ جیل ٹائم کے بعد گئے تھے اسی وجہ سے ملاقات نہیں کرائی، بابر اعوان نے بتایا کہ عدالتی حکم کے باوجود جیل انتظامیہ وکلاء سے ملاقات نہیں کرا رہے ہیں، بے شک ایک ایک یا دو دو کریں مگر ملاقات کی اجازت دی جائے.
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں سہولیات سے متعلق درخواست پر نوٹس کررہے ہیں، الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز روسڑم پر آگئے، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نے اپیل پر نوٹس جاری کر کے کیس کا ریکارڈ طلب کیا تھا، کیا ریکارڈ عدالت میں آ گیا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویزنے کہا کہ مجھے کیس کا تصدیق شدہ ریکارڈ ابھی نہیں مل سکا، کیس کے میرٹس پر سزا معطلی کی درخواست دی گئی ہے، میری استدعا ہے کہ مجھے تیاری کیلئے مناسب وقت دیا جائے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم وقت دیں گے مگر دو ہفتوں تک کا وقت نہیں دے سکتے.
لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں تو حق دفاع نہیں دیا، سنا نہیں گیا، اس وقت تو بڑی جلدبازی تھی، لطیف کھوسہ نے الیکشن کمیشن کو مزید وقت دینے کی مخالفت کی اور چیئرمین پی ٹی آئی کو ضمانت پر رہائی کی استدعاکی، سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم عدلیہ کی آزادی اور مضبوطی پر یقین رکھتے ہیں، وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ ہم نے اس عدالت سے وقت دینے کی پہلی استدعا کی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ بارہ پندرہ دن بعد کیس لگا ہے آپکو بھی تیاری کر لینی چاہئے تھے.
سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ رحم کی اپیل نہیں کررہے، اپنا آئینی حق مانگ رہے ہیں،آج ہی فیصلہ کریں، عدالتی فیصلے موجود ہیں لے کر آیا ہوں،یہ ایسا کیس ہے جس میں آپ نے چار لائنیں لکھ کر ضمانت دینی ہے، عمران خان کی ضمانت مسترد کرنی ہے کردیں لیکن یہ کوئی طریقہ نہیں،فیصلہ آج ہی کریں،یہ نہیں کہہ رہا کہ فیصلہ عمران خان کے حق میں دیں، فیصلہ ہمارے خلاف دینا ہے دے دیں، لیکن فیصلہ آج ہی کریں، اس کیس میں پہلے ہی نوٹسسز جاری ہوچکے ہیں، میرا موکل اس وقت جیل میں ہے اور انکو کوئی سہولیات فراہم نہیں کررہے، جان بوجھ کر کیس میں تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں، سیشن جج نے میرٹ کے بغیر کیس کا فیصلہ جلدی میں سنایا، سیشن کورٹ نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی کی ہے، بغیر ریفرنس کے فوجداری مقدمہ چلایا گیا اور میرے موکل کو جیل بھیج دیا گیا، الیکشن کمیشن کا سیکرٹری الیکشن کمیشن نہیں، خواجہ آصف کیس میں بھی سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے، صرف ایک کیس کو فکس کرکے چھٹیوں میں تیزی سے چلایا گیا، ایسے کیسسز میں سپریم کورٹ نے ضمانتیں دی ہوئیں ہیں، یہ عدالت ابھی میرے موکل کو ضمانت پر رہا کرے.
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پھر دونوں فریقین کی بات نہیں مانتے، کیس پرسوں سماعت کیلئے مقرر کر رہے ہیں، ہم نا کھوسہ صاحب کی بات مانتے ہیں، نا آپ کی، ہم اس کو پرسوں کے لیے رکھ لیتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر سماعت 24 اگست تک ملتوی کر دی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں