خبردار ! آج سے کوئی پولیس والا ہائیکورٹ داخل نہ ہو : وکلاء برہم

28

لاہور: لاہور ہائیکورٹ بار کے وکلاء برہمی کا شکار نظر آئے۔ ذرائع کے مطابق، وکلاء کی طرف سے یہ بیان منظرعام پر آیا جس میں بڑے کھلے الفاظ میں وکلاء نے یہ کہا کہ، ہم نے آئی جی آفس کی تیس نیس کر دیں گے، اگر آج کی تاریخ کے بعد کسی بھی پولیس اہلکار نے لاہور ہائیکورٹ اور پورے پاکستان کے ہائی کورٹ کا رُخ کیا۔ یہ جو کچھ بھی وکلاء صاحبان کے ساتھ ہو رہا ہے اس کے بعد ہم کہتے ہیں کہ دونوں چیف جسٹس فوراً resignکریں۔ کیونکہ یہ نااہل ہیں، پریڈ کے نتیجے میں دو دو ماہ جیل کیوں؟ یہ کیا طریقہ ہے؟ آپ fundamental rights کے محافظ ہیں۔ ہمارے ساتھ یہ musical chairکھیلنا بند کریں۔ ہمیں آپ سے بہت امیدیں تھیں لیکن آپ نے بھی اپنے دامادوں کو تحفظ دے کر compromiseکیا۔ آپ بھی لیٹ گئے ان پولیس والوں کے آگے، ہمیں سب پتا ہے۔ ہم لاہور بار فورم کی طرف سےدونوں چیف جسٹس صاحبان سے کہتے ہیں کہ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی وکلاء کے ساتھ جو جو زیادتیاں کی گئی ہیں ،اس کا فوری ایکشن لیا جائے۔ ورنہ ہمیں آئی جی کے آفس کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس کے کمرے کا بھی پتا ہے۔ ہم آپ کو آپ کی ڈیوٹیاں یاد کرائیں گے کہ آپ کی ڈیوٹی آخر ہے کیا۔۔ اب بار میں پولیس کا داخلہ بند ہے۔ ایک دن کا وقت ہے۔ جن وکلاء کے گھروں پر اٹیک ہوا ہے اور جس نے کیا ہے۔ ان سب کے خلاف ایف آئی آر دے دیں۔ ورنہ پرسوں سے سیشن کورٹ میں پولیس کےداخلے پر مکمل پابندی ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں