شیر دیکھنا ہے تو اعجاز چودھری کو دیکھیں۔۔۔ظلم و بربریت کے باوجود بھی ، پاکستان تحریکِ انصاف چھوڑنے سے انکاری!

17

اعجاز چودھری سینٹ آف پاکستان کے رکن ہیں جنہیںصرف جھوٹے الزامات کی بنیاد پر 78 روز سے قید میں رکھا گیا۔ پہلے انہیں اٹھایا گیا، پھر ایم پی او کے تحت اڈیالہ جیل ڈال دیاگیا اور اس کے بعد دہشت گردی کے کئی جھوٹےمقدمات میں گھسیٹا گیا۔
70 برس کی عمر میں (دل، ذیابیطس اور آرتھرائٹس جیسے عارضوں میں مبتلا ہونے کے باوجود) انہیں اس شدید گرم موسم میں نہایت غیرانسانی حالات میں جیل کے سب سے نچلے درجے میں قید رکھا گیا۔ جہاں ان کی صحت پہلے سے بھی زیادہ سنگین ہو گئی ہے۔ جن وہ قید کاٹ رہے تھے تو ان کے گھر میںگھُس کر توڑ پھوڑ کی گئی۔اور ان کے اہلِ خانہ کو ذدوکوب کی گئی، ہراساں کیا گیا اور جسمانی تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔
اس ساری وحشت و بربریت کی واحد وجہ یہ ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرنے سے مسلسل انکاری ہیں اوروہ کسی بھی صورت پی ٹی آئی سے علیحدگی اختیار نہیں کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں