حکومت کا گھنائونا کھیل۔۔الیکشن ایکٹ میں نگران وزیراعظم سے متعلق کونسی نئی ترامیم سامنے آگئیں؟

Parliment-Election-Act 26

اسلام آباد:نگران وزیر اعظم کے اختیارات میں اضافے کیلئے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترامیم پارلیمنٹ میں پیش کر دی گئیں۔ترامیم کے ذریعے سیکشن 230 کے تحت نگران وزیراعظم کے مالیاتی اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے، انتخابی عذرداری پر 30 دن کے اندر الیکشن کمیشن کو فیصلہ کرنا ہو گا، اگر 30 دن کے اندر الیکشن کمیشن فیصلہ نہیں کرتا تو امیدوار کو کامیاب قرار دیا جائے گا، خواتین، غیر مسلموں اور خصوصی افراد بشمول ٹرانسجینڈرز کو ووٹر رجسٹریشن سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی۔الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد ریٹرننگ افسر بغیر وقت ضائع کئے نتائج کی کاپی الیکشن کمیشن کو بھجوائے گا، ریٹرننگ افسر عبوری نتائج کی اوریجنل کاپی 24 گھنٹے کے اندر الیکشن کمیشن کو بھجوانے کا پابند ہو گا، رجسٹرڈ ووٹرز کی مساوی تعداد کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کی جائیں گی، حلقہ بندیوں کا الیکشن پروگرام کے اعلان سے قبل نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوگا۔ترمیم کے مطابق حلقہ میں ووٹرز کی تعداد کی تبدیلی 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہوسکے گی، حلقوں کی فہرست پر کمیشن کے فیصلے کیخلاف اپیل 30 دن کے اندر سپریم کورٹ میں دائر کی جا سکے گی، الیکشن ایکٹ کے سیکشن 24, 26, 28 سے 34, 36 اور 44 کو حذف کر دیا گیا ہے۔نئے شناختی کارڈ کے حامل ہر فرد کا ڈیٹا نادرا فوری الیکشن کمیشن کو بھجوانے کا پابند ہوگا، شناختی کارڈ بننے کے ساتھ ہی ڈیٹا ووٹر لسٹ میں اندراج کیلئے بھجوا دیا جائے گا، کاغذات نامزدگی کے ساتھ اسمبلی کیلئے پچاس ہزار اور صوبائی اسمبلی کیلئے تیس ہزار روپے فیس جمع کرانا ہوگی۔ترمیم کے بعد اگر کوئی منتخب رکن قومی اسمبلی یا سینٹ کے پہلے اجلاس کے 60 روز کے اندر حلف نہیں لیتا تو اس کی نشست خالی قرار دے دی جائے گی، عام انتخابات کے تین دن کے اندر سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستوں پر ترجیحی فہرست الیکشن کمیشن کو فراہم کرنا ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں