مراد سعید کی جان کو لاحق خطرات، چیف جسٹس کے نام خط میں کیا کہا؟

Murad-Saeed-PTi 292

مراد سعید کا جعلی مقدمات اور اپنی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ دیا، خط میں مراد سعید کی جانب سے چیف جسٹس سے بنیادی آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کی درخواست کی گئی ہے، مراد سعید کی جانب سے خط میں کہا گیا کہ پاکستان میں اس وقت شہریوں کے بنیادی حقوق نہایت سنگین صورتحال اختیار کیے ہوئے ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں، شہید ارشد شریف کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کینیا میں بے دردی سے قتل کیا گیا، چیف جسٹس اور دیگر اداروں کو اپنے خدشات سے برملا آگاہ کرنے کے باوجود ارشد شریف کی آواز نہیں سنی گئی، نتیجتاً پاکستان ایک محب وطن شہری اور صف اول کے تحقیقاتی صحافی سے محروم ہو گیا، میں اس خط کے توسط سے چند سنگین نوعیت کے خدشات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، مسجد نبوی واقعہ پر میرے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا جبکہ میں اس وقت پاکستان میں موجود تھا، انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد سے جعلی اور بے بنیاد ایف آئی آرز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلا، ان مقدمات میں مجھ پر دہشت گردی سے لے کر بغاوت پر اکسانے جیسے الزامات لگائے گئے، یہ کیسز صرف اسلیے بنائے گئے کہ میں نے ملک میں آئین کی بالادستی اور امن کے قیام کیلئے آواز بلند کی، سوات میں امن عامہ کی بگڑتی صورتحال پر ارباب اختیار کو متنبہ کرنے کی کوشش کی، امن کی بات کرنے پر مجھے اور میرے خاندان کو مسلسل دھمکیاں دی گئیں، میرے گھر پر سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد نے حملہ کرنے کی کوشش کی جو میرے پہنچنے پر با آسانی ریڈ زون میں فرار ہوگئے، اس معاملے پر بارہا کوششوں اور عدالتی احکامات کے باوجود پولیس نے ایف آئی آر درج نہ کی، پشاور پولیس لائنز دھماکے کے بعد امن ریلی کے انعقاد پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں، ضمانت کے باوجود میری غیر موجودگی میں میرے گھر پر چھاپہ مار کر خواتین اور ملازمین کو ہراساں کیا گیا ، عمران خان کے ساتھ کھڑا ہونے اور ارشد شریف کے قاتلوں کی نشاندہی پر مجھ پر دہشت گردی اور بغاوت کے مقدمے بنائے گئے، اب میرے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، حال ہی میں متعدد صحافیوں نے اپنے ٹویٹس میں پی ٹی آئی کے ایک رہنما کی گرفتاری یا قتل کی پیش گوئی کی، اس سے واضح ہے کہ میرے قتل کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے جس کی ذمہ داری پارٹی قیادت پر ڈالی جائے گی، اس صورتحال میں کسی عدالتی فورم پر کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کر سکتا،ریاست کے ماورائے آئین اقدامات سے میرا انصاف تک رسائی کا بنیادی حق معطل کر دیا گیا ہے، گزارش ہے کہ ان خدشات کے پیش نظر ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کیے جائیں، امید ہے کہ یہ خط نظر انداز کیے گئے ریکارڈ کا حصہ نہیں بنے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں