مختلف قدرتی آفات ،20لاکھ سے زائد اپنی جان گنوا بیٹھے

natural-disasters-in-world 267

نیویارک:1970سے 2021ء تک مختلف قدرتی آفات میں 20لاکھ سے زائد اپنی جان گنوا بیٹھے ، معاشی اعتبار سے 43کھرب ڈالر کا نقصان بھی مختلف ممالک کو برداشت کرنا پڑا ،90فیصد سے زائد اموات ترقی پذیر ممالک میں ہوئیں ، ترقی یافتہ معیشتوں کے لئے موسم ،آب و ہوا اور پانی سے ہونے والی قدرتی آفات 60فیصد سے زائد رپورٹ ہوئیں ۔ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ صرف امریکا کو 17 کھرب ڈالر کا نقصان ہوا جو کہ 51 برسوں میں دنیا بھر میں ہونے والے معاشی نقصانات کا 39 فیصد ہے، زیادہ تر رپورٹ شدہ معاشی نقصانات طوفان اور بالخصوص ٹراپکل سائیکلون کے نتیجے میں ہوئے۔یورپ میں ایک ہزار 784 آفات کے نتیجے میں ایک لاکھ 66 ہزار 492 اموات ہوئیں اور 562 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، 1970 اور 2021 کے درمیان دنیا بھر میں رپورٹ شدہ اموات میں سے 8 فیصد یورپ میں ہوئیں۔جنوبی امریکا میں موسم، آب و ہوا اور پانی کی وجہ سے 943 آفات آئیں، جن میں سے 61 فیصد سیلاب کے سبب ہوئیں اس کے نتیجے میں 58 ہزار 484 اموات ہوئیں اور 115 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ شمالی امریکا، وسطی امریکا اور کیریبین میں 2 ہزار 107 قدرتی ا?فات ا?ئیں جن کے نتیجے میں 77 ہزار 454 اموات اور 2 کھرب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، 1970 اور 2021 کے درمیان دنیا بھر میں رپورٹ کردہ 46 فیصد اقتصادی نقصانات کا تعلق ان ہی علاقوں سے تھا۔ جاری کردہ نئے اعداد و شمار کے مطابق 1970 سے 2021 کے درمیان 11 ہزات 778 قدرتی آفات کے نتیجے میں 20 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان قدرتی آفات کے نتیجے میں معاشی اعتبار سے تقریباً 43 کھرب ڈالر کا نقصان بھی ہوچکا ہے، یہ اعداد و شمار ڈبلیو ایم او کے ’موسم، آب و ہوا اور پانی سے اموات اور اقتصادی نقصانات کے اٹلس‘ کا حصہ ہیں۔دنیا بھر میں 90 فیصد سے زیادہ اموات ترقی پذیر ممالک میں ہوئیں، ترقی یافتہ معیشتوں کے لیے موسم، آب و ہوا اور پانی سے جڑی قدرتی آفات کے نتیجے میں 60 فیصد سے زیادہ معاشی نقصانات رپورٹ ہوئے۔کسی قدرت آفت کے نتیجے میں کسی ملک کے جی ڈی پی کے 3.5 فیصد سے زیادہ معاشی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔تاہم کم ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر ریاستوں کو اپنی معیشتوں کے حجم کے حوالے سے غیر متناسب طور پر زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ایشیا میں موسم، آب و ہوا اور پانی کی وجہ سے 3 ہزار 612 آفات کی اطلاع ملی، جس میں 9 لاکھ 84 ہزار 263 اموات اور 14 کھرب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، 1970 اور 2021 کے درمیان دنیا بھر میں رپورٹ ہونے والی تمام اموات میں سے 47 فیصد یہیں رپورٹ ہوئیں۔ٹراپکل سائیکلون نرگس مئی 2008 میں میانمار سے ٹکرایا تھا اور ایک لاکھ 38 ہزار 366 اموات کا باعث بنا، بنگلہ دیش میں 281 واقعات کی وجہ سے 5 لاکھ 20 ہزار 758 اموات ہوئیں جو کہ ایشیا میں سب سے زیادہ اموات ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں