سری نگر میں جی 20 اجلاس کا آغاز، کنٹرول لائن کے دونوں جانب مکمل ہڑتال

G20-countries 52

سری نگر: مقبوضہ کشمیر کے شہر سری نگر میں جی 20 ورکنگ گروپ کا تین روزہ اجلاس شروع ، کنٹرول لائن کے دونوں جانب مکمل ہڑتال ،جگہ جگہ جی ٹوئنٹی اجلاس بائیکاٹ کے پوسٹر لگا دیے گئے،جی ٹوئنٹی اجلاس کے خلاف دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔پیر کو مودی سرکار نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سری نگر میں جی 20 اجلاس شروع کر دیا ۔ بھارت نے 22 سے 24 مئی تک مقبوضہ کشمیر میں منعقد ہونے والے اس اجلاس میں شرکت کے لیے تنظیم کے رکن ملکوں سمیت چند دوسرے ملکوں اورکئی بین الاقوامی اداروں کو بھی شرکت کی دعوت د یہے۔ عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقے مقبوضہ کشمیر میں جی 20 اجلاس کروانے پر مودی حکومت کو ہزیمت کا سامنا ہے کیونکہ چین نے اجلاس میں شرکت سے صاف انکار کر دیا ہے، جبکہ ترکیہ اور سعودی عرب کی جانب سے بھی اجلاس میں شرکت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے، مصر نے بطور مہمان اجلاس میں آنے کی رجسٹریشن نہیں کرائی۔ ترکیہ، سعودی عرب اور مصر، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کے تمام ارکان کی جانب سے جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ مودی سرکار نے کشمیریوں پر زندگی مزید تنگ کردی ، حریت رہنماوں نے پیر کو شٹر ڈاون ہڑتال کی کال دی ، جگہ جگہ جی ٹوئنٹی اجلاس بائیکاٹ کے پوسٹر لگا دیے گئے ہیں۔ جی ٹوئنٹی اجلاس کے خلاف دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا ، احتجاج کرنے والے رہنماوں کا کہنا ہے کہ قابض بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی کو فوجی چھانی میں تبدیل کر دیا ہے، مقبوضہ وادی میں گرفتاریاں، خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنا معمول بن چکا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت نے یکم دسمبر 2022 کو جی۔20 کی صدارت سنبھالی تھی اور یہ رواں برس پہلی بار جی ٹوئنٹی کے سربراہی اجلاس کی میزبانی انجام دے رہا ہے ، بھارت اس منصب پر 30 نومبر 2023 تک فائز رہے گا۔ جی 20 گروپ کا قیام 1999 میں رکھا گیا تھا جس کا مقصد معاشی معاملات پر رابطہ کاری تھی ، 2007 کے عالمی معاشی بحران کے بعد اس فورم کو 2008 میں سربراہان مملکت کا درجہ دے دیا گیا ۔ جی 20 فورم کے ایجنڈے پر اب اقتصادی معاملات کے علاوہ تجارت، ترقی، صحت، زراعت، انرجی، موسمیاتی تبدیلی اور انسداد کرپشن کے موضوعات بھی شامل ہوتے ہیں جی 20 میں 19 ممالک اور یورپی یونین شامل ہیں ، ان ممالک میں آرجنٹینا، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، چین، فرانس، جرمنی، انڈیا، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، میکسیکو، جنوبی کوریا، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقا، ترکی، برطانیہ، اور امریکہ شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں