لوگ دروازے پھلانگ رہے، حکومت مدد کر رہی، صورتحال کا جائزہ لے رہے، سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس

supreme-court-of-pakistan faisal wavda 185

اسلام آباد:چیف جسٹس آف پاکستان نے الیکشن کمیشن کی طرف سے 4 اپریل کے حکم کے خلاف دائر نظر ثانی اپیل کی سماعت کے موقع پر ریمارکس دیئے ہیں کہ ادارے سیریس تھریٹس کے اندر ہیں، میرا مشورہ ہے فریقین پرامن ماحول کیلئے کردار ادا کریں،آج دیکھ لیں، حکومت بے بس ہے، لوگ گیٹ پھلانگ رہے ہیں، دوبارہ کہتا ہوں فریقین کو چاہیے، مذاکرات دوبارہ شروع کریں،حکومت مذاکرات کی دعوت دے تو علی ظفر بھی اپنی پارٹی سے بات کریں،الیکشن کمیشن نے پہلے یہ مؤقف اپنایا ہی نہیں تھا،جو نکات پہلے نہیں اٹھائے کیا وہ اب اٹھائے جا سکتے ہیں،مناسب ہوگا یہ نکات کسی اور کو اٹھانے دیں،عدالتی دائرہ اختیار کا نکتہ بھی الیکشن کمیشن نے نہیں اٹھایا تھا،وفاقی حکومت یہ نکتہ اٹھا سکتی تھی لیکن انہوں نے نظرثانی دائر ہی نہیں کی،الیکشن کمیشن کی درخواست میں اچھے نکات ہیں،بعض نکات غور طلب ہیں ان پر فیصلہ کریں گے،فیصلہ حتمی ہو جائے پھر عمل درآمد کروائیں گے،ادارے اس وقت شدید خطرے کے اندر ہیں،میرا مشورہ ہے پرامن ماحول کیلئے کردار ادا کریں،دیکھیں اس وقت سپریم کورٹ کے باہر کیا صورتحال ہے،باہر جو ہو رہا ہے، کون آئین پر عمل کرائے گا،آج دیکھ لیں، لوگ گیٹ پھلانگ رہے ہیں، وفاقی حکومت مدد فراہم کررہی ہے،آئین ہی جمہوریت کی بنیاد ہے، ہم ملک میں امن چاہتے ہیں،مشکل حالات میں اللہ پاک صبر کی تلقین کرتے ہیں،ملکی اداروں اور اثاثوں کو جلایا جا رہا ہے، چار پانچ دن سے جو ہو رہا ہے اسے بھی دیکھیں گے،اس کے باوجود بھی ہم اپنا کام کرہے ہیں،ایگزیکٹو اور اپوزیشن اخلاقیات کا اعلی معیار برقرار رکھیں،آئین پر عمل لازمی ہے، ایسے ماحول میں آئین پر عملدرآمد کیسے کرایا جائے؟سوموار کو عدالت عظمی میں الیکشن کمیشن کی درخواست پر چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔ وکیل تحریک انصاف علی ظفر نے موقف اپنایا کہ نظرثانی کا دائرہ محدود ہوتا ہے،نظرثانی درخواست میں نئے نکات نہیں اٹھائے جا سکتے،14 مئی گزر چکا ہے،آئین کا انتقال ہو چکا ہے،نگران حکومتیں اب غیر آئینی ہو چکی ہیں،عدالت اپنے فیصلے پر عمل کروائے،موجودہ صورتحال میں عبوری حکومت غیر آئینی ہے، پچھلے ہفتے عبوری حکومت نے سابق وزیراعظم کو عدالت سے گرفتار کیا۔چیف جسٹس نے اس موقع پر کہا کہ درخواست قابل سماعت ہونے پر الیکشن کمیشن کا مؤقف سننا چاہتے ہیں،صوبائی حکومتوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کو کو بھی سنیں گے۔عدالت عظمی نے اس موقع پر الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ انہیں اپنے دلائل مکمل کرنے کیلئے کتنا وقت درکار ہے جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل شرجیل سواتی نے بتایا کہ انہیں اپنے دلائل مکمل کرنے کیلئے تین سے چار گھنٹے درکار ہوں گے۔انہوں نے دلائل اپنائے کہ نظرثانی کا دائرہ محدود نہیں ہوتا،آئینی مقدمات میں دائرہ اختیار محدود نہیں ہو سکتا،چیف جسٹس نے اس موقع پر کہا کہ یہ بھی مدنظر رکھیں گے کہ نظرثانی میں نئے نکات نہیں اٹھائے جا سکتے،ہمارے پاس کل اہم کیس کی سماعت ہے، کیوں نہ یہ سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کر دیں،بعد ازاں عدالت عظمی نے اٹارنی جنرل،پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرلز اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک کیلئے ملتوی کر دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں