سپریم کورٹ کے اختیارات کوچیلنج کرنا اداروں کے ساتھ دست و گریبان ہونے کے مترادف ہوگا، اعتزاز احسن

Aitzaz-Ahsan-adv 97

اسلام آباد: سینئر قانون دان اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے اختیارات کوچیلنج کرنا اداروں کے ساتھ دست و گریبان ہونے کے مترادف ہوگا،حکومت کی جانب سے پیش کردہ نو ، سات یاتین رکنی ججز کا بینچ کا زاویہ پیش کرنا درست نہیں ہے، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں عام انتخابات کے التواء کے معاملے میں فل کورٹ بنانے کے لئے کوئی چیز نہیں ہے فیصلہ آچکاہے۔ سپریم کورٹ کے دو ججز نے تو سوموٹو کے لئے فیصلہ دیاتھا۔ہفتہ کے روز سینئر قانون دان اعتزاز احسن نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں عام انتخابات کے التواء کے کیس سے متعلق کہا کہ اس معاملے میں فل کورٹ بنانے کے لئے کوئی چیز نہیں ہے فیصلہ آچکاہے۔ سپریم کورٹ کے دو ججز نے تو سوموٹو کے لئے فیصلہ دیاتھا۔ پانچ رکنی ججز کے فیصلے کی پہلی لائن میں لکھا ہے کہ ہم نے تین دو کی اکثریت سے فیصلہ دیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے قانون سازی کا عمل ابھی جاری ہے قانون بنا نہیں ہے۔ از خود نوٹسز کے معاملے اپیل ابھی نہیں ہو سکتی ہے پہلے قانون بنے گا پھر اپیل کی جا سکتی ہے۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ مقتدر حلقوں میں سوچ پائی جا رہی ہے کہ صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کو ختم کر کے دوبارہ بحال کر دیا جائے ۔ حکومتی اتحادیوں کے اجلاس میں سپریم کورٹ سے متعلق درست ایڈوائس نہیں دی گئی ۔ سپریم کورٹ کے اختیارات کوچیلنج کرنا اداروں کے ساتھ دست و گریبان ہونے کے مترادف ہوگا ۔حکومت کی جانب سے پیش کردہ نو ، سات یاتین رکنی ججز کا بینچ کا زاویہ پیش کرنا درست نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں