انتخابات معاملہ، ایک اور اختلافی نوٹ، سپریم کورٹ کے کس جج نے کیا کہا؟

Justice-Jamal-mandokhel 65

اسلام آباد:پنجاب کے پی انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف کیس جسٹس جمال مندوخیل نے اختلافی نوٹ جاری کر دیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ گزشتہ روز جسٹس امین الدین خان نے کیس سننے سے معذرت کی، اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتا تھا لیکن چیف جسٹس اور باقی ججز اٹھ گئے، بینچ اٹھنے کے بعد اپنے چیمبر میں انتظار کرتا رہا مگر چیف جسٹس کی جانب سے مزید کارروائی کی کوئی معلومات نہیں ملی۔اختلافی نوٹ کے مطابق جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ گھر پہنچا تو چیف جسٹس کی جانب سے دستخط کے لیے حکم نامہ موصول ہوا، حکم نامہ کھلی عدالت میں نہیں لکھوایا گیا، حکم نامہ بغیر مشاورت کے میری غیر موجودگی میں لکھوایا گیا، بینچ کے تین ممبران نے نہ جانے کن وجوہات کی بنا پر مجھے مشاورت میں شامل کرنا ضروری نہیں سمجھا، چاہتا تھا کہ یکم مارچ کے حکم نامے کے تناسب پر بنا تنازع پہلے حل کیا جائے۔جسٹس جمال مندوخیل نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ یکم مارچ کا اکثریتی عدالتی حکم ابھی تک جاری نہیں کیا گیا، یکم مارچ کے حکم نامے کے معاملے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، سیاسی جماعتوں کے وکلا نے بھی معاملہ اٹھایا لیکن بینچ کے ارکان نے جواب نہیں دیا، ان حالات میں بینچ کا حصہ رہنا مناسب نہیں سمجھتا، بینچ کا حصہ رہ کر اپنے ساتھی ججز کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا۔اختلافی نوٹ میں لکھا گیا کہ کوئی شک نہیں کہ موجودہ کیس میں اہم آئینی امور زیر بحث ہیں، اہم آئینی امور فل کورٹ کی صورت میں مشترکہ دانش سے ہی حل کرنے چاہئیں، فل کورٹ جب بھی بنا اس کے لیے دستیاب ہوں، بصورت دیگر دعا ہے کہ ساتھی ججز جو فیصلہ دیں وہ آئین کی بالادستی قائم کرے۔جسٹس جمال مندوخیل نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ یہ کیس یکم مارچ کے فیصلے کا ہی تسلسل ہے، اول دن سے کہتا رہا کہ کورٹ یکم مارچ کے آرڈر آف دی کورٹ کا تنازع حل کرے، اب تک یکم مارچ کے فیصلے کا آرڈر آف دی کورٹ جاری نہیں ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں