کرپشن کیسز میں نیب کی جانب سے پیش رفت نہ ہونے اور عدالتوں سے ریلیف ملنے کا انکشاف

NAB News 49

اسلام آباد :پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اربوں روپے کرپشن کیسز میں نیب حکامِ کی جانب سے پیش رفت نہ ہونے اور عدالتوں کی جانب سے ریلیف ملنے پر برہمی اور افسوس کا اظہار کیا ہے،چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے اجلاس کے دوران کرپشن کی نشاندھی کے معاملات کو دبانے پر رشوت کی پیش کش ہونے کا بھی انکشاف کیا ہے۔کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نورعالم خان کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا،اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی ، چیئرمین پی اے آر سی اور آڈیٹر جنرل سمیت دیگر حکام نے شرکت کی اجلاس میں وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے مالی سال 2021/22کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں سیکرٹری وزارت نے بتایا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ فنڈز کا نہ ہونا ہے اور ہمیں بجٹ کا ایک فیصد سے بھی کم تحقیق کے شعبے میں ملا ہے اس موقع پر چیئرمین پی اے آر سی نے بتایا کہ تحقیق کا شعبہ سالوں سال چلتا رہتا ہے انہوں نے بتایا کہ 10سال قبل گندم کی فی ایکڑ پیداوار 10من تھی جو اب 20من فی ایکڑ تک پہنچ چکی ہے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر سالانہ 50کروڑ روپے تحقیق کے شعبے میں دینے جاتے ہیں تو اس کا کیا فائدہ ہے اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے گندم اورکپاس کے شعبے میں گزشتہ 10سالوں کی تحقیق کا ریکارڈ تحریری طور پر طلب کرلیا۔اجلاس کے دوران آڈٹ حکام نے بتایا کہ نیشنل اکیڈمی آف پروفیشنل آرٹسٹ کے حکام نے قواعد کی خلاف ورزی کی جس پر حکام نے بتایا کہ فنڈز کی سرمایہ کاری بورڈ کرتی ہے ہمارے تمام قوانین بنے ہوئے ہیں،کمیٹی نے معاملے کی انکوائری کرکے ذمہ داری عائد کرنے اور تمام ریکارڈ کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وزارت خزانہ سے آئی ایم ایف معاہدوں کے حوالے سے تمام ریکارڈ طلب کیا ہے اور معاملے پر وزارت خزانہ بریفنگ دیں گے، انہوں نے کمیٹی ممبران کو اجلاس میں بھرپور شرکت کرنے کی درخواست کی اجلاس کے دوران آڈٹ حکام کی جانب سے ڈیزل جنریٹر کی خریداری میں قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کے معاملے پر کمیٹی نے 14دنوں میں انکوائری کرکے ذمہ داری عائد کرنے اور وصولی کرنے کی ہدایت کی ہے کمیٹی نے ایوان اقبال لاہور میں کرائو اور یوٹیلیٹی بلز کی مد میں 2کروڑ 21لاکھ روپے سے زائد بقایا جات کی عدم وصولی کے معاملے پر وصول ہونے والی رقم آڈٹ کے ساتھ ویری فائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملے کو نمٹانے کی ہدایت کی اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی نے اربوں روپے کی کرپشن پکڑی ہے مگر عدالتوں کی جانب سے ملزمان کو ریلیف مل جاتا ہے اور مجھے نوٹسز بھی عدالتوں کی جانب سے بھجوائے جاتے ہیں انہوں نے بتایا کہ بلڈنگ کی منی ٹریل مانگنے پر مجھے بڑی رقم کی پیشکش کی گئی جو میں نے مسترد کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب حکام بھی اپنا کام درست طریقے سے نہیں کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ پی ٹی سی ایل حکام کے ذمے 809ملین کے واجبات ہیں لگتا ہے کہ نیب حکام بھی کرپٹ حکام کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بڑی بڑی کرپشن کی نشاندھی پر مختلف حلقوں کی جانب سے ناراضگی کا اظہار کیا جاتا ہے جبکہ بعض معاملات میں رشوت کی پیشکش بھی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی اے سی کا کام کرپشن کی نشاندھی کرتا ہے کہ کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں