پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاری و نظر بندی کے خلاف پٹیشن پر تفصیلی جواب طلب

PTI-Jail-Bharoo-tehreek 67

راولپنڈی:ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے نے نقص امن کے خدشات کے پیش نظر تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاری و نظر بندی کے خلاف پٹیشن پر تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے نظربند افراد کے منفی و مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے متعلق ثبوت بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا عدالت نے یہ احکامات تحریک انصاف کے مرکزی رہنماوسابق وفاقی وزیرعامر کیانی کی پٹیشن پر جاری کئے عامر کیا نی نے شوکت رئوف صدیقی کے ذریعے راولپنڈی اور اٹک میں تحریک انصاف کے 66 کارکنوں کی نظر بندی کے خلاف پٹیشن دائر کی تھی چیف سیکریٹری پنجاب ، راولپنڈی و اٹک کے ڈپٹی کمشنروں ، آر پی او راولپنڈی اورسی پی او راولپنڈی کے علاوہ سینٹرل جیل اڈیالہ اور ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے سپرنٹنڈنٹس کو فریق بنایا گیا تھا جمعہ کے روز سماعت کے موقع پردرخواست گزار کے وکیل شوکت رؤف صدیقی نے موقف اختیار کیا کہ اٹک اور راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنروں نے 15 مارچ کو 3 ایم پی او کے تحت نظر بندی کے آرڈر جاری کئے جس پر اٹک اور راولپنڈی سے 66 افراد کو نقص امن کے خدشات پر گرفتار کر کے جیل بھجوادیا گیا جبکہ جیل بھجوائے گئے افراد میں انتخابی امیدوار اور ان کے تجویز و تائید کنندگان بھی شامل ہیں اس طرح ایک منصوبہ بندی کے تحت تحریک انصاف کے امیدواروں کو ہراساں کر کے انتخابی عمل سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس پر عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کے موقف کی تصدیق کے لئے نظربند انتخابی امیدوار کے کاغذات نامزدگی طلب کئے لیکن درخواست گزار کی جانب سے کاغذات نامزدگی کی نقول یا ثبوت پیش نہ کئے جاسکے جس پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے مکمل رپورٹ عدالت مین پیش کی جائے عدالت نے ہدایت کی کہ اگر نظر بند افراد کے کسی مجرمانہ یا منفی سرگرمی میں ملوث ہونے کے کوئی ثبوت ہیں تو وہ بھی عدالت میں پیش کئے جائیں اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ عبوری ریلیف کے تحت عدالت نظربند افراد کی رہائی کا حکم جاری کرے تاہم عدالت نے تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں