توشہ خانہ کیس ‘عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد

Imran-khan-zaman-park-about-pesh-attack 52

اسلام آباد:ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفر اقبال نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر ایک بار پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے۔سماعت آئندہ تاریخ پیشی 18 مارچ تک ملتوی کردی ہے۔ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے عمران خان کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے گزشتہ روز طلب کیا تھا۔عمران خان کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ناقابل ضمانت وارنٹ معطل کرکے آج پیش ہونے کا حکم دیا تھاعمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے  دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ عمران خان جان بوجھ کر پیش نہیں ہو رہے۔ہم نے اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں پٹیشنز دائر کی ہیں۔عمران خان کو سکیورٹی تھریٹس ہیں۔عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ خواجہ حارث نے درخواست کی کہ وارنٹ گرفتاری جاری کرنے سے پہلے کیس کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہوسکتے۔الیکشن کمیشن نے توعمران خان کیخلاف شکایت کی نہیں۔عمران خان کے خلاف شکایت ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے کی۔شکایت میں صرف ہدایات دی گئیں کہ عمران خان کے خلاف کارروائی کی جائے۔عمران خان کے وکلا نے فرد جرم عائد کرنے کی مخالفت کردی اور دلائل میں کہا کہ عمران خان کو نوٹس جاری ہوں گے۔پیش نہ ہونے پروارنٹ جاری ہوسکتے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج تک وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنیکا فیصلہ دیا ہے۔اور قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھانے کی ڈائریکشن دی ہے۔الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن کا کہنا تھا کہ درخواستیں دے کر سیشن عدالت کی کاروائی کو بار بار مؤخر کرنیکی کوشش کی گئی۔عمران خان کو  جو  ریلیف بار بار  مل رہا ہے۔وہ اس کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ وارنٹ تو موجود ہیں۔کسی بھی وقت جاری ہو سکتے ہیں۔استثنیٰ کی درخواست صرف  آج کے لیے دائرکی گئی ہے۔عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ زندگی کو  خطرہ ہے۔عمران خان سابق وزیراعظم ہیں۔جس سکیورٹی کے  وہ  مستحق ہیں۔وہ  نہیں دی جا رہی۔نگران حکومت پنجاب نے عمران خان سے سکیورٹی واپس لے لی ہے الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ  جب تک عدالت کوئی فیصلہ نہیں کردیتی توشہ خانہ کیس قابل سماعت رہے گا۔ جوڈیشل کمپلیکس میں توشہ خانہ کیس کی درخواست پہلے بھی دی جاچکی جو سیشن عدالت نے مستردکی۔عمران خان کو حاضری سے استثنیٰ کیسے مل سکتا ہے جب ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں، ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کو  اختیار ہے کہ فوجداری کارروائی کی شکایت دائر کرسکے۔وکیل خواجہ  حارث کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے اپنے کسی افسر کو شکایت دائر کرنے کا اختیار نہیں دیا۔عمران خان کے خلاف شکایت آج ہی خارج ہونی چاہیے۔الیکشن کمیشن کی اجازت کہاں ہے؟ کوئی ایک دکھا دیں۔الیکشن کمیشن کی اجازت کے بغیر تو کارروائی ہی نہیں ہو سکتی۔عدالت نے سوا تین بجے تک عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔بعد ازاں عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بحال کردیے ہیں۔ عدالت نے عمران خان کو 18 مارچ کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں