عمران خان کو 13مارچ کو عدالت پیش ہونے کا حکم

VOA-Imran-khan-PTi-interveiw 54

اسلام آباد: اسلام آباد کی سیشن عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کو 13 مارچ کو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔آج سماعت کے آغاز میں عمران خان کے جونیئر وکیل سردار مصروف خان عدالت کے روبرو پیش ہوئے، ن لیگ کے رہنما محسن شاہنواز رانجھا اور الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے استفسار کیا کہ عمران خان آج بھی نہیں پیش ہو رہے کیا؟ ضامن پابند ہیں کہ عمران خان عدالت پیش ہوں،عمران خان کے جونیئر وکیل سردار مصروف خان نے بتایا کہ عمران خان کی پیشی کا علم نہیں، سینئر لیگل ٹیم 10 بجے عدالت پیش ہوگی، عدالت نے سماعت میں 10 بجے تک وقفہ کردیا۔وقفے کے بعد عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ وکالت نامہ ایک دو دن تک دے دیتا ہوں، عمران خان کی لیگل ٹیم اسلام آباد ہائی کورٹ میں موجود ہے، اگلے ہفتےکوئی تاریخ دےدیں۔جج نے ریمارکس دیےکہ عمران خان کی طلبی کے لیے سماعت چل رہی ہے وکیل شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت خراب ہے، معذوری کی حالت ہے، دنیا میں عمران خان سے متعلق تماشہ چل رہا ہے۔وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ضامن کو عدالت نوٹس کرے اور شورٹی کوکینسل کیاجائے، کیس کی سماعت 9 مارچ تک ملتوی کردی جائے۔درخواست گزار اور ن لیگی رہنما محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ 9 مارچ کو عمران خان نے ہائی کورٹ میں پیش ہونا ہے، عمران خان یقینی طور پر 9 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوں گےوکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے بتایا گیاہےکہ عمران خان کے لیے اگلے ہفتے کچہری پیش ہونا آسان ہوگا۔جج نے ریمارکس دیےکہ یعنی دوسرے لفظوں میں عمران خان نے 9 مارچ کو بھی سیشن عدالت پیش نہیں ہونا، آپ کا وکالت نامہ پہلے آنا چاہیے، بات بعد میں ہونی چاہیے، میں نے انتظار بھی اس لیے کیا کہ شائد اسلام آباد ہائی کورٹ کا کوئی فیصلہ آجائےگا، اگر صورتحال یہی رہنی ہے تو کوئی فیصلہ کر دیتے ہیں، عمران خان خود بھی ابھی تک ذاتی طور پر پیش نہیں ہوئے، ظاہر ہو رہا ہےکہ عمران خان آج بھی سیشن عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔جج نے مزیدکہا کہ عمران خان کے کیس میں قانون سب کے لیے برابر ہوگا، قانون کے مکمل تقاضوں کو پورا کرکے توشہ خانہ کیس کو چلایا جائےگا۔عمران خان کے وکیل کی جانب سے 2 بجے تک سماعت میں وقفہ کرنے کی استدعا کی گئی جس پر ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے دو بجے تک سماعت میں وقفہ کردیا۔وقفے کے بعد عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت اور فیصل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوبارہ آغاز پر جج نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے کہا گیا کہ سیشن عدالت جوڈیشل کمپلیکس شفٹ کردی جائے۔عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ عمران خان جوڈیشل کمپلیکس اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہورہے ہیں، اسلام آباد کی ضلعی کچہری میں ماضی میں بھی حملہ ہوچکا ہے، صورتحال بتارہی ہےکہ عمران خان پر اگر حملہ ہوا توکچہری میں ہی ہوگا، ان کی جان کو خطرے کےساتھ ججز، وکلا اور شہریوں کی جان کوبھی خطرہ ہے۔عمران خان کے وکیل کے ریمارکس پر جج نے کہا کہ آپ ہمیں بتائیں، سکیورٹی کا انتظام کرنا میرا کام ہے، 9 مارچ کو توشہ خانہ کیس کی سماعت رکھ لیتے ہیں، سکیورٹی کے انتظامات کے احکامات جاری کردیتا ہوں۔اس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل کے وارنٹ منسوخی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کردی ہے، اس پر عدالت نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کے باعث ہی کیس کی سماعت میں وقفہ کیا تھا، دیکھ لیتے ہیں لیکن سوا 3 بجے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ کردیاجائےگا۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت شروع کی تو اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی عمران خان کی ضمانت منسوخی کے لیے دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جس پر سیشن عدالت نے ہائیکورٹ کے فیصلے سے سماعت میں وقفہ کیا۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے بھی عمران خان کو 13 مارچ کو پیش ہونے کا حکم دیاایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کو حکم دیا کہ عمران خان فردِجرم عائد ہونے کے لیے 13 مارچ کو عدالت میں پیش ہوں واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری معطل کرتے ہوئے حکم دیا کہ وہ 13 مارچ کو سیشن عدالت میں پیش ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں