اصل قربانی چوہدری پرویز الٰہی اور ق لیگ نے دی، عمران خان کا اعتراف

imran-khan-and-pervaiz-elahi 123

لاہور:پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اب ہم شہباز شریف کو پوری طرح ٹیسٹ کریں گے، اسے نے ہمیں ٹیسٹ کیا، اب امتحان کی باری اس کی ہے، تو بالکل کریں گے، ہمارا کل اجلاس ہے، اس میں ہم صرف اعتماد کے ووٹ لینے کا فیصلہ نہیں کریں گے، اس کے علاوہ بھی پلانز ہیں، ان کو پہلی دفعہ امتحان میں ڈالیں۔ جیسے ہی پنجاب اسمبلی تحلیل ہوتی ہے، اس کے بعد ایک ہفتے کے اندر خیبرپختونخوا کی اسمبلی بھی توڑ دیں گے۔ایک سوال کے جواب میں ان کہنا تھا کہ میں اپنے سارے لوگوں سے ملاقاتیں کی تھیں، جائزہ لے رہا تھا کہ ٹمپریچر کیا ہے، ہمارے چیف وہپ کو یقین تھا کہ نمبرز پورے ہوں گے، جب آصف زرداری، سندھ کے چند وزرا کے ساتھ نوٹوں کی تھیلیاں لے کر آئے، اس وقت ہمارے کئی اراکین گھبرائے ہوئے تھے۔عمران خان نے کہا کہ جو گمنام نمبروں سے فون کرتے ہیں، یہ بھی دھمکیاں دے رہے تھے، یہ بھی پیش کش کررہے تھے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) میں چلے جائیں، عمران خان پر ریڈ لائن ڈال دی ہے، اب اس نے آنا نہیں ہے، لیکن میں اپنے لوگوں کے ٹمپریچر کا جائزہ لے رہا تھا، پاکستان بدل گیا ہے، میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ اس طرح کے رکن صوبائی اسمبلی اس طرح کا پریشر ڈالا گیا، مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ اب جائیں گے نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 16 جولائی کو پنجاب کے ضمنی انتخابات کا جو نتیجہ آیا ہے، اس نے پاکستان کی پوری سیاست کو شاک ویو گزرا، پنجاب کی سوچ ہوتی تھی کہ جدھر اسٹیبلشمنٹ ہے، ادھر پنجاب ہے، پنجاب اسٹبیلشمنٹ کے خلاف نہیں کھڑا ہوتا، اس تبدیلی کا اثر پوری پنجاب کی سیاست پر پڑا، اس ہمارے سارے ایم پی ایز کو بھی پتا تھا کہ اس وقت جو پارٹی چھوڑے گا، وہ اپنی سیاست کا جنازہ نکالے گا، یہ بہت بڑی تبدیلی تھی۔پنجاب اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم رات 10 بجے اندازہ ہوگیا کہ اب ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ (اعتماد کا ) ووٹ لے لیں، مونس الہیٰ نے بڑا کردار ادا کیا، وہ اسپین سے اپنے اراکین کو فون کررہا تھا کیونکہ آخر میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے اراکین کم تھے، ہمارے پورے ہوگئے تھے۔(ق) لیگ کے ساتھ اتحاد سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جس طرح چوہدری پرویز الہٰی ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے، ہماری جماعت میں ان کو بڑا سراہا گیا، اصل قربانی تو انہوں نے دی ہے، ہم ان کو تجویز دے رہے ہیں کہ آپ پارٹی ضم کریں کیونکہ اتحادی سیاست میں بڑے مسائل ہوتے ہیں، میں نے ساڑھے تین سال حکومت کی ہے، میرے لیے سب کو ہینڈل کرنا عذاب تھا، مطالبات ہوتے تھے، ہم انہیں ڈیولپمنٹ فنڈ دیتے تھے تو ہمارے لوگ ناراض ہو جاتے تھے، میں یہ ہینڈل کرتے ہوئے پاگل ہو گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ (ق) لیگ کے بھی مفاد میں ہے کہ یہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر لڑیں لیکن ہم ان کا احترام کریں گے، وہ جو بھی فیصلہ کریں۔عمران خان نے کہا کہ جدھر پاکستان پہنچ گیا ہے، اس وقت ایک مضبوط اور طاقت ور حکومت کی ضرورت ہے، جو مشکل فیصلے کر سکے، جو ایسے فیصلے کر سکے جو آج تک کسی نے پاکستان میں نہیں کیے۔ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی ہے کہ مارشل لا بھی لگا، مارشل لا کی حکومتیں ملک کو تو ٹھیک کر سکتی تھیں، احتساب، انصاف کا نظام اور اداروں کو تو ٹھیک کر سکتی تھیں، مافیاز کو کنٹرول کر سکتی تھیں۔عمران خان نے کہا کہ مجھے خود کسٹم والے بتا رہے تھے کہ کمزور سے کمزور کوئٹہ کا کلکٹر بھی ایک ارب روپے مہینے کے بناتا ہے، آپ سوچ لیں وہاں اور کتنا پیسہ لوگوں کی جیبوں میں جا رہا ہے، حکومت کمزور ہے، لوگ امیر ترین ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے خوف آرہا ہے، سیاسی انجیئرنگ دیکھ رہا ہوں، ایم کیو ایم کو اکٹھا کر رہے ہیں، بلوچستان عوامی پارٹی کو پیپلز پارٹی میں بھیج رہے ہیں، ساؤتھ پنجاب میں پی پی کو سیٹیں، جمعیت علمائے اسلام (ف) کو خیبرپختونخوا میں، اور یہاں سب کو کہہ رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) میں چلے جاؤ کیونکہ عمران خان کے اوپر کراس ڈلا دیا ہے، انہوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا، سیاسی انجیئرنگ نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ پہلی بار پنجاب میں کسی پارٹی کو ووٹ پڑا،جھنگ، بھکر اور میانوالی میں پی ٹی آئی نے دھڑوں کی سیاست ختم کردی۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کو اندازہ نہیں تھا کہ وقت بدل گیا ہے،وقت گزرنے کیساتھ گیلری میں بیٹھے لوگوں کی شکلیں بدلنا شروع ہوگئی تھیں۔عمران خان نے کہا کہ مغربی ممالک کے وزرائے اعظم، وزیر سادگی اختیار کرتے ہیں، مغربی ممالک ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، اگر ملک میں دوبارہ سیاسی انجینئرنگ کر کے کمزور حکومت لائی گئی تو پھر کچھ نہیں کر سکیں گے، گزشتہ حکومت کو چلانا بڑا مشکل اور عذاب تھا، میں سمجھتا تھا سٹیبلشمنٹ اور میرا ایک ہی مفاد ہے، میں تو اقتدار میں آکر پیسہ بنانے نہیں آیا تھا۔سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سری لنکا کو آئی ایم ایف نے آدھی فوج کرنے کا کہا ہے، جب ملک کمزور ہوتے ہیں تو قرضے دینے والے ملک آرڈر دیتے ہیں، اسی لیے میں کہہ رہا تھا جب ہم قرض لیں گے تو وہ پھر آرڈر بھی دیں گے، مجھے فیلنگ تھی کہ جنرل باجوہ بھی میرے جیسی سوچ رکھتے ہیں، جنرل باجوہ کو جب ایکسٹنشن دی تو ایک اور باجوہ سامنے آگیا، جنرل باجوہ کہتے تھے احتساب پر زور نہ لگائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں