ایل سیز نہ کھولنے کا معاملہ، پاکستان میں صحت کا شعبہ بھی متاثر

Health-issues 99

لاہور:بینکوں کی جانب سے ایل سیز نہ کھولنے کے معاملے پر پاکستان میں اعضاکی پیوند کاری متاثر ہونے لگی،پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ لاہور کے مطابق اعضا کی پیوندکاری میں استعمال ہونے والی اہم دوا کی ملک بھر میں شدید قلت ہے ، اے ٹی جی نامی دوا نہ ہونے کے سبب گردوں کی پیوندکاری 3ہفتے سے معطل ہے،ڈاکٹر فیصل سعود ڈار نے کہا کہ اے ٹی جی نامی دوا جرمنی سے درآمد کی جاتی ہے جو ایل سیز نہ کھولنے کے سبب میسر نہیں، گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں بھی صرف ایمرجنسی میں اعضا کی پیوند کاری کر رہے ہیں،اے ٹی جی دوا کی قلت پر ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی کا کہنا تھا کہ اے ٹی جی نامی دوا نہ ہونے کے سبب گردوں، بون میرو اور جگر کی پیوند کاری کے مریض متاثر ہو رہے ہیں، اسلام آباد کے شفاانٹرنیشنل اسپتال میں بھی ای ٹی جی دوا نہ ہونے کے سبب اعضا کی پیوندکاری میں مشکلات کا سامنا ہے،اس حوالے سے امپورٹر کا دعوی ہے کہ اے ٹی جی دوا کے 2ہزار انجیکشن کراچی ائیرپورٹ پر کسٹم حکام کی تحویل میں ہیں، مقامی بینک کی جانب سے گارنٹی نہ دینے کے باعث کسٹم حکام جان بچانے والی دوا ریلیز نہیں کررہے،مزید برآں ڈریپ حکام کا کہنا تھا کہ ڈالر نہ ہونے کے باعث ادویات اور ان کا خام مال کی درآمد کرنے میں مشکلات ہیں، حل کی کوششیں کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں