جماعت اسلامی کا بڑا فیصلہ، وزیراعلی ہاوس کے باہر کیا کرنے جارہے ہیں؟

Hafiz-Naeem-U-rehman 59

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی نعیم الرحمان نےبروز جمعرات 5 جنوری کو وزیراعلی سندھ کے گھر کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کر دیا ۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ بلدیاتی الیکشن کا وقت قریب آتے ہی سازش شروع ہوگئی ہے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ الرحمان نے کہا کہ(آج) بروز جمعرات 5 جنوری کو ہم سی ایم ہاس پر دھرنا دیں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے ماضی میں بھی مل کر الیکشن ملتوی کروائے ہیں۔ حلقہ بندیوں کا مسئلہ رجیم چینج کے وقت بھی تھا، اس وقت حل کروالیتے، یہ بات الیکشن کے وقت کیوں آڑے آتی ہے۔ بلدیاتی انتخابات 3 مرتبہ ملتوی ہوچکے ہیں، چوتھی بار بھی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن قریب آتے ہی سازش شروع ہوگئی، ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلزپارٹی حلقہ بندیوں کو جواز بناکر الیکشن سے فرار چاہتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ووٹر لسٹوں کو بنیاد بنا کر الیکشن ملتوی نہیں ہوسکتے۔ 15 جنوری کو الیکشن کا ہونا لازمی ہے۔ کراچی کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے کراچی امیر کا کہنا تھا کہ کراچی کو نیشنل گرڈ سے بجلی دینی چاہیئے اور کے الیکٹرک کو ختم کیا جائے۔ سردیوں میں کون سا توانائی کا بحران آگیا، جو حکومت نے نئی پالیسی متعارف کرائی ہے، حکومت نے مارکیٹس جلدی بند کرنے کا اعلان کیوں کیا ہے، مہنگائی، بے روزگاری اس وقت کسی جماعت کا ایجنڈا نہیں ہے۔ اعتراض اس بات پر ہے کہ یہ گورنر سندھ کا کام نہیں ہے۔ پی ایس بی اور ایم کیو ایم میں اتحادی کی خبروں پر حافظ الرحمان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے دھڑوں کے ایک ہونے پر اعتراض نہیں ہے، ویسے بھی گورنر سندھ نے پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کو ایک ہی پارٹی بنا دیا ہے۔ بڑھتے اسٹریٹ کرائمز سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی وفاق اور صوبائی حکومت دونوں میں ہیں، تاہم اس کے باوجود شہر میں امن کیلئے کوئی خاطر خواہ پالیسی یا اقدامات نظر نہیں آتے، اسٹریٹ کرائمز کی وجہ سے ہمارے نوجوان شہید ہو رہے ہیں۔ کراچی میں پارکس اجڑے ہوئے اور سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں