توہین عدالت کیس، اسد عمر کی معافی قبول، ریلیف مل گیا

asad-umar-address-long-march 66

راولپنڈی: لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں آزادی مارچ میں عدلیہ مخالف تقاریر کے معاملے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کی، جسٹس جواد حسن نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں اسد عمر کی تقریر کا اسکرپٹ بھی پیش کیا گیا جبکہ اسد عمر کی طرف سے توہین عدالت نوٹس کا جواب بھی جمع کروایا گیا۔دوران سماعت اسد عمر نے کہا کہ جو کہا اس پر غیر مشروط معافی مانگتا ہوں اور کیس نہیں چلانا چاہتا، جس پر عدالت نے کہا کہ اچھا کیا معافی مانگ لی معاملہ ختم کر دیا۔عدالت نے لانگ مارچ راستوں کا معاملہ بھی نمٹانے کا عندیہ دے دیا۔ جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیے کہ آزادی مارچ راستوں کی بندش کا معاملہ اب ختم اور مارچ پرامن گزر گیا، عدالت کا کام غیر قانونی اقدام سے روکنا تھا اور مارچ پرامن رہا جبکہ پرامن احتجاج ہر کسی کا بنیادی حق ہے۔جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیے کہ راستوں کی بندش سے متعلق باقاعدہ فیصلہ جاری کروں گا جو آئندہ کے لیے گائیڈ لائن ہوگی، راستوں کی بندش پٹیشنوں پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا جائے گا اور یہ تمام پٹیشنز بھی اسی فیصلہ ساتھ ڈسپوز ہوں گی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد تنولی نے کہا کہ عدلیہ کو سیکنڈ لائز کی کوشش کی گئی اس لیے کارروائی ہونی چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ ہم غیر مشروط معافی سے مطمئن ہیں۔عدالت کی جانب سے تمام پٹیشن نمٹا دی گئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں