قوال عزیز میاں کی 22ویں برسی 6دسمبر کو منائی جائے گی

aziz-mian-qawal 64

لاہور:مقبول ترین پاکستانی قوال عزیز میاں کی 22ویں برسی 6دسمبر کو منائی جائے گی۔وہ 17اپریل 1942 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ان کا اصل نام عبدالعزیز تھا اور میاں ان کا تکیہ کلام تھا، جو وہ اکثر اپنی قوالیوں میں بھی استعمال کرتے تھے، جو بعد میں ان کے نام کا حصہ بن گیا۔تقسیم ہند کے بعد وہ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کر کے پاکستان منتقل ہوئے اور لاہور میں سکونت اختیار کی۔استاد عبدالوحید سے فن قوالی سیکھنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے عربی، فارسی ادب اور اردو ادب میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔1966 میں شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے سامنے یادگار پرفارمنس پر انعام و اکرام اور گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔عزیز میاں قوال اپنی بیشتر قوالیاں خود لکھتے تھے، اس کے علاوہ انہوں نے علامہ محمد اقبال، صادق اور قتیل شفائی کا کلام بھی بارہا گایا۔عزیز میاں کا شمار قدرے روایتی قوالوں میں ہوتا تھا، ان کی آواز بارعب اور طاقتور تھی۔لیکن ان کی کامیابی کا راز صرف ان کی آواز نہیں تھی، عزیز میاں نہ صرف ایک عظیم قوال تھے بلکہ ایک عظیم فلسفی بھی تھے۔انہیں اپنے ابتدائی دور میں فوجی قوال کا لقب ملا کیونکہ ان کی شروع کی سٹیج کی بیشتر قوالیاں فوجی بیرکوں میں فوجی جوانوں کے لیے تھیں۔عزیز میاں کو شاعری پڑھنے میں کچھ ایسی مہارت حاصل تھی جو سامعین پر گہرا اثر چھوڑ جاتی تھی۔ان کی بیشتر قوالیاں دینی رنگ لیے ہوئے تھیں گو کہ انہوں نے رومانی رنگ میں بھی کامیابی حاصل کی تھی۔عزیز میاں کی مقبول ترین قوالیوں میں شرابی، تیری صورت اور اللہ ہی جانے کون بشر ہے شامل ہیں۔عزیز میاں کا انتقال 6دسمبر 2000 کو ایران کے دارلحکومت تہران میں یرقان کی وجہ سے ہوا۔انہیں حضرت علی کرم اللہ وجہ کی برسی کے موقع پر ایرانی حکومت نے قوالی کیلئے مدعو کیا تھا تاہم آپ کی تدفین آبائی قبرستان ملتان میں کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں