امریکا میں اسلحے سے ہلاکتوں کی شرح بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

america firing incident 47

واشنگٹن : امریکا میں اسلحے سے ہلاکتوں کی شرح 28سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی،دوسال سے زائد عرصے کے دوران جب کورونا وائرس کی وبا سے دنیا بھر میں لاکھوں اموات ہوئیں، امریکا کو ایک اور وبا کے تباہ کن نتائج کا سامنا ہوا،امریکا میں اسلحے سے فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی شرح میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے،جرنل جاما نیٹ ورک میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ 2021میں 48ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی وجہ خودکار اسلحہ بنا، یہ تعداد 2019کے مقابلے میں 25فیصد زیادہ ہے،درحقیقت ہلاکتوں کی شرح 28سال کی بلند ترین شرح پر پہنچ گئی ہے،تحقیق میں مزید بتایا کہ گزشتہ 3دہائیوں کے دوران اسلحے سے 10لاکھ سے زیادہ افراد کو قتل کیا گیا،محققین نے بتایا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکت ہلا کر رکھ دیتی ہے،تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ فائرنگ سے سیاہ فام نوجوانوں کی ہلاکت کا امکان دیگر گروپس کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے،محققین کے مطابق اوسطا ہر ایک لاکھ میں سے 141 ہلاکتیں سیاہ فام نوجوانوں کی ہوتی ہیں،انہوں نے زور دیا کہ ان ہلاکتوں کی روک تھام ممکن ہے اور تحقیق کے نتائج سے امریکا میں بہت بڑے مسئلے کی نشاندہی ہوتی ہے،تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران اسلحے کے استعمال سے ہونیو الی ہلاکتوں کی شرح 2014کے مقابلے میں دوگنا زیادہ بڑھ گئی،خیال رہے کہ امریکا میں فائرنگ کے واقعات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور کسی واقعے میں کم از کم 4 افراد کو گولیاں لگنے پر ماس شوٹنگ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے،2022کے دوران ماس شوٹنگ کے کم از کم 611واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں