طاقتور راکٹ چاند کی طرف روانہ، مشن کیا ہے؟

strong-rocket-moon 57

ناسا نے اب تک کا سب سے طاقت ور راکٹ چاند کی طرف روانہ کردیا ہے جو کہ خلائی ایجنسی کے نئے فلیگ شپ پروگرام آرٹیمس کا حصہ ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق خلائی ایجنسی ناسا نے 32 منزلہ اسپیس لانچ سسٹم نامی راکٹ کو گزشتہ رات ایک بج کر 47 منٹ پر فلوریڈا میں کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ کیا۔ناسا کی پہلی خاتون لانچ ڈائریکٹر چارلی بلیک ویل تھامسن نے اپنی ٹیم کو پرجوش انداز میں کہا کہ ’جو کچھ آپ لوگوں نے آج کیا ہے اس سے آنے والی نسلوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔راکٹ کو چاند کی طرف روانہ کرنے کے دو گھنٹوں بعد ناسا نے کہا کہ اسپیس کرافٹ اپنی منزل چاند کی طرف گامزن ہے اور بعد میں کرافٹ کے پیچھے زمین کی لی گئی پہلی تصاویر جاری کی گئیں۔ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے راکٹ کی روانگی کے بعد نیوز کانفرنس میں کہا کہ اب ہم پھر چاند پر واپس جا رہے ہیں اور ہم صرف چاند کے لیے نہیں جا رہے بلکہ ہم یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ انسانوں کو مریخ پر بھیجنے کی تیاری کے لیے چاند پر کیسے رہا جائے۔ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے کہا کہ یہ اگلی شروعات ہے اور یہ آرٹیمس کی جنریشن ہے۔خیال رہے کہ امریکا نے آخری مرتبہ 1969 سے 1972 کے دوران اپولو دور میں خلابازوں کو چاند پر روانہ کیا تھا، مگر اس بار انہیں 2030 کی دہائی تک مریخ پر حتمی مشن کی تیاری میں مدد کے لیے مستقل قیام کی توقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں