وفاقی پولیس یا کرپشن کا گڑھ‘ فنڈز میں مبینہ خرد برد کا انکشاف

islamabad-police-corruption 52

اسلام آباد :وفاقی پولیس کے فنڈز میں مبینہ خرد برد کا انکشاف ہوا ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس کو ملنے والے فنڈز، بھرتیوں،پینشن اور ویلفئیر فنڈز کاریکارڈ بھی کچھ حد تک غائب پایا گیا ہے آڈیٹرجنرل آف پاکستان نے اسلام پولیس کی مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس بونس،مالیات،مال خانہ اور اخراجات کی رسیدوں کا ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے دوسری جانب اسلام آباد پولیس کے اہلکار بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں ذرائع کا کہنا ہے اسلام آباد پولیس اہلکاروں کو وردی جوتے تاحال نہ ملنے کی بھی شکایات سامنے آ رہی ہیں پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر سال پولیس افسران و اہلکاروں کو یونیفارم اور جوتے فراہم کیے جاتے ہیں گرمیوں اور سردیوں کو مد نظر رکھتے ہوے ملبوسات فراہم کیے جاتے ہیں اسلام آباد پولیس کی افسران و اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 12 ہزار نفری ہے۔اسلام آباد پولیس کا اس حوالے سے خاص طور پر بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق ایک سال میں 8 کروڑ روپے کے ملبوسات تقسیم کیے جاتے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک طرف پولیس کو فراہم کئے جانے والے فنڈز نا کافی ہیں تفتیش کے لئے دی جانے والی رقم نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے پارسل جمع کرانے کے لئے رکھی گئی رقم کا ذکر کیا جائے تو لاہور کا کرایہ 3 ہزار کے قریب ہے اس کام کے لئے رکھی گئی رقم اس قدر ناکافی ہے کہ اسکا ذکر بھی کسی مذاق سے کم نہیں اسی طرح گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانے کے لئے بھی نہ ہونے کے برابر پیسے دیئے جاتے ہیں جن سے کسی بھی صورت پٹرول پورا نہیں ہو سکتا ایک طرف تو فنڈز رکھے ہی بہت کم گئے ہیں اور جو ہیں ان میں بھی خورد برد سامنے آئی ہے گاڑیوں میں ڈالوائے جانے والے پٹرول کے حوالے سے بھی گاہے گاہے خبریں سامنے آتی ہیں کہ بعض ڈرائیور وہ پٹرول فروخت کر دیتے ہیں اور پیسے اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں اس بابت موقف جاننے کے لئے آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خان اور ڈی آئی جی سے رابطہ کرنے کوشش کی گئی مگر انکا فون اٹینڈ نہ ہوا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں