دہشتگرد تنظیموں سے تعاون کرنے والے جرائم میں برابر کے شریک، ترک صدر کا بڑا اعلان

turkish president address to people 55

جکارتہ : ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ داعش سے لڑنے کے بہانے دوسری دہشت گرد تنظیم سے تعاون کرنے والے ہر بہنے والے خون کے قطرے کے ذمہ داروں میں سے ہیں۔صدر ایردوان نے انڈونیشیا میں جی 20 سربراہی اجلاس کے بعد میڈیا سینٹر میں پریس کانفرنس کا اہتمام کیا۔اس بات کا اظہار کرتے ہوئے کہ داعش سے لڑنے کے بہانے دہشت گرد تنظیم کی حمایت کرنے والے بھی استنبول میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے حوالے سے بہائے گئے خون کے ہر قطرے میں شریک ہیں، صدر ایردوان نے کہا کہ “ہم ترکی کی منصفانہ جدوجہد کے لیے اپنے تمام دوستوں اور اتحادیوں کی مخلصانہ حمایت کی توقع رکھتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ترکیہ کی دہشت گردی کے خطرات کا قلع قمع کرنے کی حکمت ِ عملی پر مصمم طریقے سے عمل درآمد کو جاری رکھا جائیگا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ چاہے کچھ بھی کیوں نہ کرلیں ، کسی کا بھی سہارا کیوں نہ لیں ، ان دہشت گردوں کو ان کے کیفر کردار تک ضرور پہنچایا جائیگا۔صدر ِ ترکیہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک و خطے کے مستقبل میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے وجود کا امکان موجود نہیں۔متحدہ امریکہ سے ایف۔16 کے حصول کے بارے میں جناب ایردوان نے کہا کہ امریکی صدر نے اس ضمن میں مثبت پیش رفت ہونے کا اظہار کیا ہے۔شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کو ترک مملکتوں کی تنظیم کے مبصر رکن بننے کے موضوع پر بات کرتے ہوئے صدر نے بتایا کہ “اس فیصلے کے بارے میں کسی مقام یا پھر کسی ملک سے ہمیں اجازت لینا مقصود نہیں، یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔صدر ایردوان نے پولینڈ میں میزائل گرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ “میں اس حوالے سے روس کے بیان کا احترام کرنے پر مجبور ہوں۔ جیسا کہ روس کا کہنا ہے کہ’ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ‘ یہ چیز ہمارے لیے اہم ہے۔ بائیڈن نے بھی میزائلوں کے روسی ساخت کے نہ ہونے کا بیان جاری کیا ہے جو کہ روس کے بیان کی تائید کرتا ہے۔ انہیں اس حوالے سے مزید تحقیقات کرنی ہوں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ “ہم روس اور یوکیرین کو ایک ہی میز کے گرد یکجا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں تو اس جنگ کے کسی تیسرے شراکت دار کو تلاش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔صدر ایردوان نے اناج راہداری کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ “ہمارے رابطے تواتر سے جاری ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ بھی جاری رہیں گے۔اس حوالے سے فی الوقت کوئی پریشانی دکھائی نہیں دیتی۔ روسی صدر پوتن سے مذاکرات کرتے ہوئے کھاد اور امونیا کی ترسیل کے معاملے پر غور کیا جائیگا۔ ہم اس معاہدے کے دورانیہ کو ایک سال تک بڑھانے کی کوششوں میں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں