چینی صدر کی مختلف ممالک کے صدور سے ملاقاتیں، اہم امور پر گفتگو

china-president 41

بالی: چین کے صدر شی جن پھنگ نے ارجنٹائن کے صدر البرٹو فرنانڈس کے ساتھ انڈونیشیا کے شہر بالی میں ملاقات کی ہے۔شی جن پھنگ نے اس بات کا خاص طور پر ذکر کیا کہ یہ سال چین۔ارجنٹائن تعلقات کی ترقی کا اہم سال ہے، دونوں صدور نے مشترکہ طور پر 2022 کو چین۔ ارجنٹائن دوستی اور تعاون کا سال قراردیا اور دونوں فریقین نے سفارتی تعلقات کے قیام کی 50 ویں سالگرہ گرم جوشی سے منائی اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تبادلوں اور تعاون کو نئی بلندیوں پر لے گئے۔شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور ارجنٹائن کو بڑے ترقی پذیر ممالک اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کی حیثیت سے تعلقات کی ترقی کا ایک خاکہ بنانے میں اسٹریٹجک نقطہ نظر اپنانے اور اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں مستقل پیشرفت کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔شی نے کہا کہ چین ارجنٹائن کے ساتھ حکمرانی کے تجربے کے تبادلے میں اضافے کو تیار ہے۔ دونوں ممالک ترقی کی راہ پر گامزن ہونے میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں جو ان کے قومی حالات، عوامی توقعات اور وقت کی ضروریات پر پورا اترتا ہے۔ وہ خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کو برقرار رکھنے میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔شی نے کہا کہ دونوں فریقین کو ثقافت، میڈیا، تعلیم، کھیلوں، نوجوانوں اور نچلی سطح پر تعاون کرنے، اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو تیز کرنے کی ضرورت ہے،جبکہ زراعت، توانائی، بنیادی ڈھانچے، خلا اور دیگر شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے اور وسعت دینے کی ضرورت ہے۔شی نے نشاندہی کی کہ چین ارجنٹائن کے ساتھ مل کر چائنہ۔ سی ای ایل اے سی (لاطینی امریکی اور کیریبین ریاستوں کی کمیونٹی) فورم کی تعمیر اور چا ئنہ۔ایل اے سی (لاطینی امریکہ اور کیریبین) تعلقات کو ایک نئے دور کے لئے گہرا کرنے بارے تیار ہے جس میں مساوات، باہمی فائدہ، اختراع، کھلاپن اور عوامی فوائد شامل ہوں۔شی نے مزید کہا کہ چین گروپ آف 20 اور دیگر کثیر الجہتی مقاصد میں ارجنٹائن کے ساتھ قریبی تعاون برقرار رکھے گا تاکہ حقیقی کثیر الجہتی کو برقرار رکھا جاسکے، عالمی ترقیاتی انیشی ایٹو اور عالمی سلامتی کو نافذ کیا جاسکے اور مشترکہ طور پر بنی نوع انسان کے لئے مشترکہ مستقبل کے ساتھ ایک معاشرہ تشکیل دیا جاسکے۔فرنانڈس نے شی کو کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کا دوبارہ جنرل سیکرٹری منتخب ہونے پر ایک بار پھر اور ذاتی حیثیت میں مبارکباد پیش کی۔فرنانڈس نے یاد دلایا کہ رواں سال فروری میں بیجنگ اولمپک سرمائی کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بیجنگ کے دورے میں ان کی شی کے ساتھ کامیاب اور نتیجہ خیز ملاقات ہوئی تھی۔بعد ازاں چین کے صدر شی جن پھنگ نے انڈونیشیا کے شہر بالی میں سپین کے وزیراعظم پیڈرو شینز سے ملاقات کی ہےجبکہ چین کے صدر شی جن پھنگ نے جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یویل سے ملاقات کی ہے۔شی نے نشاندہی کی ہے کہ چین اور جنوبی کوریا قریبی ہمسایہ ہیں جو ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے، یہ تعاون کے شراکت دار ہیں جنہیں الگ نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک خطے میں امن کو برقرار رکھنے اور دنیا میں خوشحالی کے فروغ میں اہم ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں اور ان کے وسیع تر مشترکہ مفادات بھی ہیں۔رواں سال چین اور جنوبی کوریا سفارتی تعلقات کے قیام کی 30 ویں سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے شی نے کہا کہ گزشتہ 30 برس کی تاریخ کے مطابق چین اور جنوبی کوریا کے تعلقات کا استحکام اور پائیدار ترقی ان کے عوام کے بنیادی مفادات کو پورا کرتی ہے۔شی نے کہا کہ چین دوطرفہ تعلقات کو برقرار رکھنے، مستحکم کرنے اور آگے بڑھانے، خطے اور دنیا کو زیادہ سے زیادہ استحکام فراہم کرنے کے لئے جنوبی کوریا کے ساتھ ملکر کام کرنے بارے تیار ہے۔شی نے دونوں فریقین کو اسٹریٹجک رابطوں اور سیاسی باہمی اعتماد کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی معیشتیں انتہائی تکمیلی ہیں، چین اور جنوبی کوریا کو ترقیاتی حکمت عملی کو بڑھانے، مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین کو دوطرفہ آزاد تجارتی معاہدے پر گفتگو تیز کرنے، اعلیٰ ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ، بِِگ ڈیٹا اور سبز معیشت جیسے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے اور مشترکہ طور پر عالمی آزاد تجارتی نظام کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ عالمی صنعتی اور سپلائی چین کو محفوظ، مستحکم اور بغیر کسی رکاوٹ جاری رکھنے اور اقتصادی تعاون کو سیاست زدہ کرنے یا اس طرح کے تعاون پر سلامتی کے تصور کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی مخالفت کرنی چا ہئیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین جنوبی کوریا کے ساتھ ثقافتی تبادلوں اور تعاون کو فروغ دینے، جی 20 اور دیگر ممالک میں رابطوں اور ہم آہنگی بڑھانے کے لئے کام کرنے کو تیار ہے، مشترکہ طور پر حقیقی کثیر الجہتی پر عمل پیرا ہے اور خطے میں مجموعی طور پر امن اور استحکام کا تحفظ کرتا ہے۔یون نے کہا کہ جنوبی کوریا رواں سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 30 ویں سالگرہ کو باہمی احترام اور باہمی فائدے پر مبنی پختہ تعلقات کے لئے چین کے ساتھ کام کے موقع کے طور اختیار کرنا چاہتا ہے، جو دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا پر امید ہے کہ وہ چین کے ساتھ مختلف سطح پر بات چیت جاری رکھے گا۔ افراد کے درمیان تبادلوں کو فروغ دے گا، اپنے لوگوں میں دوستی میں اضافہ کرے گا، آزاد تجارتی نظام کو برقرار رکھے گا اور مشترکہ طور پر عالمی مشکلات سے نمٹے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں