ہم پر پہلے کوئی دباو تھا نہ اب ہے ، چیئرمین نیب

aftab-sultan-chairman-NAB 55

اسلام آباد:چیئرمین پی اے سی نور عالم خان کی زیر صدارت پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا، چیئرمین نیب آفتاب سلطان پبلک اکانٹس کمیٹی اجلاس میں شریک ہوئے۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ نیب کو کچھ انکوائریز ریفر کی گئی تھیں جن پر تحقیقات کی رفتار سست ہے، بی آر ٹی، ہیلی کاپٹر کیس، بلین ٹری سونامی اور بینک آف خیبر سے متعلق نیب کو انکوائری کرنے کا کہہ رکھا ہے، ایسے لگ رہا جیسے کچھ لوگوں کو بچایا جا رہا ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ جب میں نے عہدہ سنبھالا تو بی آر ٹی کیس بند تھا لیکن ہم کیس کو 6 ہفتے سے دیکھ رہے ہیں اور پیشرفت ہوئی ہے، تاریخ نہیں دے سکتا۔ بینک آف خیبر سے متعلق اسٹیٹ بینک کو لکھا ہوا ہے، انکا جواب آئے گا تو آگے بڑھیں گے۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ نیب کے جو افسران کیسز کو سرد خانے میں رکھنے کے ذمہ دار ہیں انکے خلاف کارروائی کی جائے، معلوم ہے کہ کچھ کیسز میں بہت زیادہ کرپشن ہے لیکن تحقیقات سست روی کا شکار ہیں، بی آر ٹی کیس کو 4 سال ہوچکے ہیں، اس لیے ٹائم فریم طے کریں۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے کہا کہ کسی اور کی نہیں صرف اپنی بات کروں گا، ہم پر پہلے کوئی دباو تھا نہ اب ہے اور نیشنل اکاونٹیبلٹی ایکٹ پارلیمنٹ نے پاس کیا ہے اس پر کوئی بات نہیں کروں گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انشااللہ اب نیب افسران پر سوال نہیں اٹھیں گے، تھوڑا ٹائم دیں انشااللہ ادارے میں بہتری آئے گی، نیب آرڈیننس میں ترامیم کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ چیئر مین نیب نے پی ٹی آئی کے نئے کیسز پر بات کرنے سے انکار کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں