ڈیلی میل کیخلاف مقدمہ شہباز شریف کے گلے کی ہڈی ‘بڑی مشکل میں پھنس گئے

daily-mail-and-shahbaz-sharif 46

لندن:برطانوی اخبار ڈیلی میل کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے بعد اب وزیراعظم شہباز شریف مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ برطانیہ کی ہائی کورٹ نے شہباز شریف کو جواب الجواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت دینے سے انکار کردیا ہے۔ شہباز شریف کے وکلا نے ہائیکورٹ میں کہا تھا شہباز شریف پاکستان کے وزیراعظم ہیں اور بہت مصروف ہیں۔ انہیں جواب الجواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت دیا جائے۔ تاہم جسٹس میتھیو نیکلن نے یہ درخواست مسترد کردی۔جج نے ریمارکس دیے کہ ان کی عدالت میں وزیراعظم اور عام آدمی برابر ہیں۔اگر شہباز شریف کی قانونی ٹیم بروقت اور معقول جواب عدالت میں جمع نہ کرا سکی تو انہیں ڈیلی میل کو قانونی اخراجات ادا کرنے پڑیں گے۔وزیراعظم کے وکلا کو جواب الجواب جمع کرانے کے لیے 13 دسمبر تک کا وقت دیا گیا ہے۔شہباز شریف نے ڈیلی میل اور اس کے صحافی ڈیوڈ روز کے خلاف مقدمہ جنوری 2022 میں دائر کیا تھا۔ برطانوی صحافی نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ شہباز شریف بطور نے پاکستان کو ملنے والی برطانوی امداد میں سے رقم خورد برد کی ہے۔ اخبار کے مطابق جب یہ غبن ہوا شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے۔مسلم لیگ(ن) کے صدر نے اپنے مقدمے میں ڈیلی میل کے الزمات کو جھوٹ اور پروپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔شہباز شریف کی جانب سے مقدمہ دائر کیے جانے کے تقریباً ایک برس بعد مارچ 2022 میں ڈیلی میل شائع کرنے والی کمپنی ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز لمیٹڈ نے اپنا جواب عدالت میں داخل کیا اور وہ ثبوت پیش کیے جن کی بنا پر اس نے خبر شائع کی تھی۔عدالت کی جانب سے شہباز شریف کے وکلا کو جواب الجواب داخل کرنے کے لیے کہا گیا جو اب تک داخل نہیں ہوا۔ اب عدالت نے شہباز شریف کو مزید وقت دینے سے انکار کردیا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں