ڈی جی آئی ایس پی آر کی ڈی جی آئی ایس آئی کے ہمراہ دھواں دھار پریس کانفرنس

DG-ISPR-and-DG-ISI-presser 136

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ سائفر اور ارشد شریف کے حوالے سے جڑے واقعات کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہے، تاکہ قوم سچ جان سکے، ہم کمزور ہو سکتے ہیں،ہم سے غلطی ہوسکتی ہے لیکن ہم غدار، سازشی یا قاتل نہیں ہوسکتے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پریس کانفرنس کا مقصد ارشد شریف کی وفات اور اس سے جڑے حالات و واقعات سے متعلق ہے، ارشد شریف پاکستان کی صحافت کا آئیکون تھے، وہ ایک فوجی کے بیٹے، ایک شہید کے بھائی تھے، دکھ تکلیف کی اس گھڑی میں ہم سب ان کے لواحقین کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔انہوں نے کہا کہ افسوس ناک واقعے نے پوری قوم کو رنج و غم میں مبتلا کردیا ہے، ارشد شریف کی موت کے بعد لوگوں نے رخ فوج کی طرف موڑنا شروع کردیا، اس سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے، یہ دیکھنا بہت ضروری ہے، تمام کرداروں کو سامنے لاکر حقائق قوم کے سامنے رکھنا چاہیے، حتمی رپورٹ سامنے آنے تک کسی پر الزام تراشی کسی صورت مناسب نہ ہوگی۔لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا کہ سائفر اور ارشد شریف کے حوالے سے جڑے واقعات کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہے، تاکہ قوم سچ جان سکے، سائفرسےمتعلق کئی حقائق منظرعام پر آگئے ہیں، پاکستانی سفیر کو سیاسی مقاصد کیلیے استعمال کیا گیا ، 27 مارچ کو جلسے میں کاغذ کا ٹکڑا لہرایا گیا، آئی ایس آئی کی سائفر سے متعلق فائنڈنگز عوام کے سامنے رکھنا چاہتے تھے مگر اُس وقت ( تحریک انصاف) کی حکومت نے ایسا نہ کرنے دیا، ہم حقائق سامنے لانا چاہتے تھے لیکن معاملہ سابق حکومت پر چھوڑ دیا، آرمی چیف نے 11 مارچ کو سائفرسےمتعلق وزیراعظم سےذکرکیاتھا، سابق وزیراعظم عمران خان نے سائفر پر کہا کوئی بڑی بات نہیں۔انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے آرمی چیف پر بھی الزامات لگائے گئے، جھوٹے بیانیے کے ذریعے معاشرے میں غیر معمولی اضطراب کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، ارشد شریف ملک چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے تھے، سلمان اقبال نے چیف ایگزیکٹو عماد یوسف کو ہدایت کی کہ ارشد شریف کو جلد از جلد ملک سے باہر بھیج دیا جائے، ارشد شریف کو دبئی بھیجنے کا انتظام اے آر وائے کی جانب سے کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کو سیکیورٹی تھریٹ وزیراعلی خیبرپختونخواہ کی خصوصی ہدایت پر جاری کیا گیا، تھریٹ الرٹ کا مقصد ارشد شریف کو باہر جانے پر مجبور کرنا تھا، بار بار انہیں باور کرایا جاتا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے، وقار احمد اور خرم احمد کون تھے، کیا ارشد شریف انہیں جانتے تھے، کچھ لوگوں نے ارشد شریف سے لندن میں ملاقات کے دعوے کیے، کیا یہ دعوے بھی فیک نیوز اور ڈس انفارمیشن کا حصہ تھے، کینیا پولیس اور حکومت نے اس کیس میں اپنی غلطی تسلیم کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں بہت سے سوالات جواب طلب ہیں، افسوس ناک واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ضروری ہیں، ہم نے حکومت سے اعلیٰ سطح تحقیقات کی درخواست کی ہے، عالمی اداروں کی ضرورت ہو تو انہیں بھی شامل کرنا چاہے، اے آر وائی نیوز نے اداروں کیخلاف رجیم چینج کا مخصوص ایجنڈا پروان چڑھایا، ارشد شریف کی موت پرجھوٹا بیانیہ بنایا گیا،لوگوں کو گمراہ کیا گیا، ارشد شریف کے قتل کے سلسلے میں سلمان اقبال کو واپس لا کر انہیں شامل تفتیش کرنا چاہیے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال اٹھائے کہ ارشد شریف سے رابطہ میں رہنے والے لوگ کون تھے اور کس نے ارشد شریف کا ان سے رابطہ کروایا؟ یو اے ای میں ان کے قیام و طعام کا انتظام کون کر رہا تھا، کون انہیں یقین دلا رہا تھا، کس نے انہیں کینیا جانے کا کہا گیا کیوں کہ مزید 34 ممالک ہیں جہاں پاکستانیوں کے لیے ویزہ فری انٹری ہے، ارشد شریف کو کس نے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا تھا؟۔ان کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کو سائفر سے متعلق کسی سازش کے شواہد نہیں ملے، لیکن ارشد شریف اور بہت سے ان جیسے صحافیوں کو رجیم چینج کا بیانیہ فیڈ کیا گیا، شہباز گل نے اے آر وائی پر فوج میں بغاوت پر اکسانے کا بیان دیا، اے آر وائی چینل نے پاک فوج اور اس کی قیادت کے خلاف جھوٹے اورسازشی بیانیے کو فروغ دیا۔لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاکستانی اداروں بالخصوص فوج کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا، ذہن سازی سے قوم میں افواج پاکستان کیخلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، نیوٹرل اور جانور جیسے الفاظ سے بات چیت کی گئی۔انہوں نے کہا کہ لفظ نیوٹرل کو گالی بنادیا گیا ہے، ہمارے شہدا کا مذاق بنایا گیا، اس کے باوجود آرمی چیف نے انتہائی صبر اور تحمل سے کام لیا، ہم غدار سازشی یا قاتل نہیں ہوسکتے، سائفر کا بہانہ بنا کر أفواج پاکستان کی تضحیک کی گئی، غیر آئینی کام سے انکار کرنے پر میر جعفر اور میر صادق کے القاب دیے گئے، سیاست سے باہر نکلنے کا فیصلہ آرمی چیف سمیت پورے ادارے کا تھا، پچھلے سال اور مارچ سے بہت دباؤ ڈالا گیا، پاکستانی اداروں کو دنیا میں بدنام کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی، پاکستان آرمی سے سیاسی مداخلت کی توقع کی گئی جو آئین کے خلاف تھی۔انہوں نے کہا کہ 35 ، 35 سال کی خدمات کے بعد کوئی غداری کا ٹائٹل لے کر گھر نہیں جانا چاہتا، اداروں پر اعتماد رکھیں، اگر ماضی میں کچھ غلطیاں ہوئی ہیں تو پچھلے 20 سال سے ہم اپنے خون سے منہ دھو رہے ہیں، فوج عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے، ہم کبھی انسٹی ٹیوشن کے طور پر قوم کو مایوس نہیں کریں گے، یہ ہمارا وعدہ ہے، ہم کمزور ہو سکتے ہیں،ہم سے غلطی ہوسکتی ہے لیکن ہم غدار، سازشی یا قاتل نہیں ہوسکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں