اسلام آباد پولیس کی پھرتیاں‘چوروں ڈکیتوں کے بجائے پی ٹی آئی کارکن گرفتار کر لئے

IG-Islamabad-and-police 56

اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس اس وقت مکمل طور پر ایک جماعت کا سیاسی جماعت کی آلہ کار بن چکی ہے جس کی واضح مثالیں نئے آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خان کے آنے کے بعد واضح دیکھنے کو مل رہی ہیں، شہر اقتدار میں آئے روز ڈکیتی اور چوری کی وارداتوں میں واضح اضافے دیکھنے کو مل رہا ہے جس کی پرواہ کئے بغیر موجودہ آئی جی اور ان کی ٹیم محض ایک سیاسی جماعت پر مقدمات بنانے اور ان کی پکڑ دھکڑ میں مصروف ہیں، موجودہ وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کی خصوصی آشیرباد حاصل ہونے کی وجہ سے موجودہ آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خان کو جرائم کی بڑھتی شرح سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی خاص اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، عام شہریوں کو کئی کئی دن تھانوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں لیکن ان کی کوئی سنوائی نہیں ہوتی جبکہ دوسری جانب گزشتہ روز ہی ایک سیاسی جماعت پر دہشتگردی سمیت دیگر کئی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج ہوئی اور آج اس جماعت کے 12سے زائد کارکنان کو گرفتار بھی کر لیا گیا جبکہ یہی اسلام آباد پولیس کئی کئی مہینوں ڈکیتیوں اور چوریوں میں ملوث ملزمان کو ٹریس نہیں کر پاتی انہیں گرفتار نہیں کیا جاتا اور نہ عام شہریوںکی دادرسی ہوتی ہے۔ عمران خان کی نااہلی کے خلاف ہونے والے احتجاج ،پتھرا ئومیں ملوث تحریک انصاف کے 12 کارکنان کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا۔پولیس کے مطابق بارہ کہو میں پتھرا ئوکرنے والے تحریک انصاف کے 12کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا ہے جن میں مجاہد، فرازمان ، ہارون اور ایاز خان شامل ہیں۔حکام کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں فضل مولا، عثمان خان ، راضمی خان ، مہتاب حسین اور زاہد حسین بھی شامل ہیں۔گزشتہ روز اسلام آباد پولیس نے عمران خان کی نااہلی کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج کے دوران جلا گھیرا اور توڑ پھوڑ کرنے پر پی ٹی آئی کے 7 رہنماں سمیت 78 نامزد اورسینکڑوں نامعلوم کارکنان کیخلاف خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں