بلدیاتی انتخابات ملتوی ہونے کا معاملہ، امید ہے عدالت سے انصاف ملے گا، اسد عمر

PTI-Asad-Umar-Media-talk 102

مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمرپاکستان تحریک انصاف اسد عمر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل وسابق وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ایک با ر پھر پی ڈی ایم کی معاونت کی بلدیاتی انتخابات موخر کیے، الیکشن کمیشن نے اپنے ہی فیصلے کو ریورس کردیا،حکومت کی خواہش تھی کہ کسی طرح اسلام آباد بلدیاتی انتخابات سے بھاگا جائے،پی ڈی ایم کی خواہش وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کھل کر بیان کردی،عدالتی وقانونی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کے عوام کو فیصلے دینے کا حق دینا چاہتے ہیں،ہم اس حق کیلئے اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے، وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کئے جانے کے فیصلے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہجب الیکشن مہم شروع ہوگئی تو انہیں خیال آیا کہ ہوا تو ہمارے خلاف چل رہی ہے ،جو یونین کونسل ہم نے بنائی تھی یہ اسی پر واپس آگئے،پاکستان کے عوام کو ان کا حق ملے گاوہ فیصلہ کریں گے کہ ملک کو کہاں لے کر چلنا ہے،امید ہے کہ عدالت سے فیصلہ آئے گا جو قانون کے مطابق ہوگا، اسد عمر نے کہا کہ آج الیکشن کمیشن نے اپنے ہی فیصلے کو ریورس کردیا،حکومت کی خواہش تھی کہ کسی طرح اسلام آباد بلدیاتی انتخابات سے بھاگا جائے،ایک ہفتہ قبل الیکشن کمیشن اسلام آباد بلدیاتی انتخابات موخر نہ کرنے کا فیصلہ دے چکا تھا،موجودہ حکومت اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کر رہی ہے،الیکشن کمیشن نے ایک با ر پھر پی ڈی ایم کی معاونت کی اور الیکشن موخر کر دیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ اس سال بلدیاتی انتخابات نہیں ہونے چاہئیں،یہ عام انتخابات کا سال ہے،بلدیاتی انتخابات عام انتخابات کے بعد ہونے چاہئیں ، وزارت داخلہ کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے موخر ہونے کا نوٹیفیکیشن کیا گیا،یہ جو کام کررہے ہیں مضحکہ خیز ہے،ہمیں معلوم تھا کہ الیکشن کمیشن اسلام آباد بلدیاتی انتخابات موخر کرے گا،اسد عمر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر ہم نے ہائیکورٹ میں انٹراکورٹ میں فائل کر دی ہے،انہوں نے کہا کہ موجودہ اتحادی حکومت نے آئین اور قانون کو مذاق بنایا ہوا ہے،یہ چاہتے ہیں کہ جمہوریت جمہور کے بغیر ہو،موجودہ حکومت نے یونین کونسل میں اضافے کی استدعا کی ہے،ہم آرڈیننس لا چکے تھے جسمیں یوسیز بھی بڑھا دی گئی تھیں،ہم نے 101یونین کونسلز کر دی تھیں، اس آرڈیننس کے خلاف یہی پی ڈی ایم عدالت گئی تھی،جب الیکشن مہم شروع ہوگئی تو انہیں خیال آیا کہ ہوا تو ہمارے خلاف چل رہی ہے ،جو یونین کونسل ہم نے بنائی تھی یہ اسی پر واپس آگئے۔رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ دسمبر میں دوبارہ الیکشن مہم شروع ہوئی الیکشن میں ہفتہ باقی رہ گیا تھا ، پھر انہیں پتہ چلا کہ اسلام آباد میں پی ڈی ایم حکومت فارغ ہونے جارہی ہے،جون میں نئی آبادی کے لحاظ سے 101یونین کونسلز بنائی گئی تھی،بغیر کسی تبدیلی اور بغیر کسی مردم شماری کے 6ماہ میں کتنے بچے پیدا ہو گئے ہونگے، اب یہ دوبارہ الیکشن کی طرف جائیں گے پھر یہ بدلنا پڑے گا، موجودہ اتحادی حکومت نے بظاہر فیصلہ کر رکھا ہے کہ کسی بھی طریقے سے پاکستان میں جمہوری عمل آگے بڑھنے نہیں دینا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں